قائد اعظم یو نیورسٹی: ہاسٹلز خالی کروانے کیلئے انتظامیہ کا آپریشن، درجنوں طلبہ گرفتار
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے میں یونیورسٹی کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے طلبہ کی درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیا تھا


اسلام آباد: اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے منگل کے روز قائد اعظم یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں غیر قانونی طور پر مقیم طلبہ کے خلاف کارروائی کی۔ یہ کارروائی پولیس کی مدد سے کی گئی، جس میں انتظامیہ کے مطابق وہ طلبہ شامل تھے جو یونیورسٹی کی ہاسٹل پالیسی کے خلاف ہاسٹلز میں مقیم تھے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی ٹیموں نے منگل کی صبح قائد اعظم یونیورسٹی کے ہاسٹلز نمبر 9، 8، 6، اور 11 پر کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران متعدد طلبہ کو حراست میں لیا گیا اور انہیں تھانہ سیکرٹریٹ منتقل کر دیا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، ان ہاسٹلز کو 13 جولائی سے عارضی طور پر بند کیا گیا تھا تاکہ ان کی مرمت اور تزئین و آرائش کی جا سکے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف:
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے 13 جولائی سے ہاسٹلز کی بندش کا اعلان کیا گیا تھا اور طلبہ کو اپنے کمروں کو خالی کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ تاہم، کئی طلبہ نے رضاکارانہ طور پر ہاسٹلز خالی کر دیے، جبکہ بعض طلبہ نے اس فیصلے کے خلاف مزاحمت کی اور انکار کر دیا۔ کئی بار مہلت دینے کے باوجود، جب یہ طلبہ ہاسٹلز خالی کرنے پر تیار نہیں ہوئے، تو آخرکار پولیس کی مدد لی گئی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ بھی وضاحت کی کہ غیر قانونی طور پر مقیم طلبہ کی موجودگی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن رہی تھی اور نئے طلبہ کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی تھیں۔
عدالتی فیصلہ:
عدالت نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ معاملہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کا اندرونی معاملہ ہے اور عدالت کو اس میں مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔
پشتون سٹوڈنٹس کونسل کا ردعمل:
پشتون سٹوڈنٹس کونسل کے وائس چیئرمین داداللہ دمڑنے نے دعویٰ کیا کہ جن طلبہ کو حراست میں لیا گیا، وہ تمام باقاعدہ طور پر زیرِ تعلیم ہیں اور اپنی ڈگریز اور فائنل پروجیکٹس پر کام کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان طلبہ کے غیر قانونی طور پر مقیم ہونے کا کوئی ثبوت سامنے آیا تو وہ ذاتی طور پر اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہیں۔ داداللہ دمڑ نے مزید کہا کہ یہ کارروائی بلا جواز اور روایات کے خلاف ہے کیونکہ ہر سال تعطیلات کے دوران ہاسٹلز میں طلبہ کی رہائش کو معمول کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
طلبہ کا احتجاج:
گرفتار طلبہ کی رہائی کے لیے درجنوں طلبہ تھانہ سیکرٹریٹ کے باہر جمع ہو گئے اور احتجاج کیا۔ مظاہرین نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی اور اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے احتجاجی مظاہرے کے دوران سیکیورٹی کو سخت کر دیا تھا اور مظاہرین نے تھانے کے دروازے پر دھکم پیل کی، جس کی وجہ سے تھانے کے اندر جانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس نے کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے اضافی اہلکار تعینات کیے اور علاقے کی نگرانی بڑھا دی۔
🚨 Quaid-e-Azam University Hostels 6, 8, 9 and 11 have been completely evacuated. The hostels have been closed. Around 55-60 students have been arrested and shifted to PS Sect, Police operation#SaveQAU #Islamabad #مارچ_توہوکررہےگا pic.twitter.com/QyFoWy54dh
— Wajiha Tamseel Mirza (@WajihaTamseel) July 29, 2025
سیاسی و سماجی اثرات:
اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کے انتظامی فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ طلبہ تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے اس کارروائی کو طلبہ کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی کی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کارروائی کو ایک قانونی اور انتظامی ضرورت کے طور پر پیش کر رہے ہیں تاکہ یونیورسٹی میں نظم و ضبط قائم رہے۔

پاکستان کا متحدہ عرب امارات کا 2 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنے کا فیصلہ
- 2 گھنٹے قبل

امریکی فوج میں ہلچل: آرمی چیف جنرل رینڈی جارج کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا
- 3 گھنٹے قبل

ایران کا دوسرا امریکی ایف-35 لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ، پائلٹ کی تلاش جاری
- ایک گھنٹہ قبل

ایران کی جوابی کارروائیاں جاری: حیفہ میں آئل ریفائنری کے قریب راکٹوں سے حملوں میں 6 افراد زخمی
- 6 گھنٹے قبل

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے بعد بسوں کے کرایوں میں ہوشربا اضافہ
- 6 گھنٹے قبل

وزیر اعظم نے ٹول ٹیکس میں سہ ماہی 25 فیصد اضافہ معطل کر دیا
- 5 گھنٹے قبل

عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی،ٹرمپ کا ایران کےپُلوں اور بجلی گھر وں کو تباہ کرنے کی دھمکی
- 6 گھنٹے قبل

شہریوں کیلئے بڑا ریلیف : حکومت کا ٹرین کے کرایوں میں مجوزہ اضافہ روکنے کا فیصلہ
- 6 گھنٹے قبل

لاہور،فیصل آباد، پشاور، اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر شہروں میں زلزلےکے جھٹکے
- 13 منٹ قبل

مشرق وسطیٰ کشیدگی:قوام متحدہ کا خلیجی ممالک کی خودمختاری کی حمایت کا اعلان
- 3 گھنٹے قبل

گلوکارعلی ظفر کا ہتک عزت کیس کے بعد پہلا بیان سامنے آگیا
- 3 گھنٹے قبل

وزیراعلیٰ سندھ کا رجسٹرڈموٹرسائیکل سواروں کوڈیجیٹل وائلٹس کے ذریعے ہر ماہ 2 ہزار دینے کا اعلان
- 4 گھنٹے قبل







