Advertisement
علاقائی

 نکاح نامے پر دستخط کے بعد بیوی کو حق مہر سمیت طے شدہ حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا،عدالت عالیہ

ہائی کورٹ نے آبزرویشن دی کہ عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نکاح نامے کی شرائط کی تشریح کرتے ہوئے خواتین کے قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 months ago پر Jun 5th 2026, 2:36 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
 نکاح نامے پر دستخط کے بعد بیوی کو حق مہر سمیت طے شدہ حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا،عدالت عالیہ

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ نکاح نامے پر دستخط کے بعد بیوی کو حق مہر سمیت طے شدہ حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور شوہر کسی ابہام کا فائدہ اٹھا کر بیوی کے حقوق سلب نہیں کر سکتا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس سلطان تنویر نے حق مہر میں دی گئی دو ایکڑ زمین کے تنازع پر خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور کیس دوبارہ سماعت کے لیے واپس بھجوا دیا۔عدالت نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ بھی جاری کر دیا۔

جاری کردہ فیصلےکے مطابق فریقین کے درمیان 2015 میں نکاح ہوا تھا اور نکاح نامے میں دو ایکڑ زمین بطور حق مہر مقرر کی گئی تھی۔ شوہر نے زمین منتقل کرنے کے بجائے 2015 کے ریٹ کے مطابق 16 لاکھ روپے ادا کیے تھے، جبکہ ٹرائل کورٹ نے اس اقدام کو درست قرار دیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ریکارڈ کے مطابق حق مہر زمین کی صورت میں مقرر کیا گیا تھا، اس لیے ٹرائل کورٹ نے حق مہر کی شق کی درست تشریح نہیں کی۔ اگر زمین کے بدلے رقم ادا کی جانی ہو تو اس کا تعین موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہونا چاہیے۔

دوران سماعت عدالت نے کہا کہ نکاح نامہ ایک سول معاہدہ ہے اور اس کی شرائط کو فریقین کی حقیقی نیت کے مطابق سمجھا جانا چاہیے۔ کسی بھی شق کی تشریح کرتے وقت یہ جاننا ضروری ہے کہ نکاح کے وقت فریقین کی اصل منشا کیا تھی اور خاتون کو اپنے حقوق کا مکمل علم تھا یا نہیں۔

ہائی کورٹ نے آبزرویشن دی کہ عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نکاح نامے کی شرائط کی تشریح کرتے ہوئے خواتین کے قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔

 

Advertisement
Advertisement