خوراک کے ضیاع اور نقصانات میں کمی بھوک، غربت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے ناگزیر ہے،پاکستان
جدت اور ٹیکنالوجی خوراک کے ضیاع میں کمی لا سکتی ہیں، جیسے اسمارٹ اسٹوریج حل اور ڈیجیٹل ٹولز جو نقصانات کی نشاندہی اور روک تھام میں مدد دیتے ہیں،عاصم افتخار


نیویارک: پاکستان نے کہا ہے کہ خوراک کے ضیاع اور نقصانات میں کمی بھوک، غربت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے،پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کو صفر ضیاع کے ہدف کے حصول کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں مدد دینے کے لیے مضبوط عالمی تعاون اور مالی وسائل کی فراہمی پر زور دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں "انٹرنیشنل ڈے آف زیرو ویسٹ 2026 (International Day of Zero Waste)" کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جس کا موضوع تھا "زیرو فوڈ ویسٹ چیلنج: انقلابی پیش رفت اور جدید طریقۂ کار"، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے خوراک کے ضیاع کو موسمیاتی اقدامات، غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی سے براہِ راست جڑا ہوا ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس پر توجہ مرکوز کرنے کا خیرمقدم کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے زیرو ویسٹ اقدامات میں ترکیہ کی قیادت کو سراہا خصوصاً محترمہ امینہ اردوان کی نمایاں کاوشوں کو، اور تقریب کے انعقاد پر یو این ای پی اور یو این ہیبیٹاٹ (UN Habitat) کو مبارکباد دی۔
سفیر عاصم نے مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال تقریباً ایک ارب ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے جبکہ 82 کروڑ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خوراک کا ضیاع عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں دس فیصد تک حصہ ڈالتا ہے، جو فوری اقدامات کی ضرورت کو واضح کرتا ہے،انہوں نے زور دیا کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے خوراک کے ضیاع کا تدارک نہ صرف ماحولیاتی اور معاشی ترجیح ہے بلکہ ایک اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ ان کے مطابق یہ بحران طرزِ زندگی، رویوں اور ناقص سپلائی چینز کا نتیجہ ہے، جس کے حل کے لیے معاشروں کو خوراک کی قدر و قیمت کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صرف رویوں میں تبدیلی کافی نہیں ہوگی۔ ایک بڑے زرعی ملک کے طور پر پاکستان کو ناکافی کولڈ چین انفراسٹرکچر، غیر مؤثر تقسیم کے نظام اور محدود پروسیسنگ صلاحیت کے باعث نمایاں نقصانات کا سامنا ہے، جو اکثر خوراک کے صارفین تک پہنچنے سے پہلے ہی ہو جاتے ہیں۔
سفیر عاصم نے کہا کہ جدت اور ٹیکنالوجی خوراک کے ضیاع میں کمی لا سکتی ہیں، جیسے اسمارٹ اسٹوریج حل اور ڈیجیٹل ٹولز جو نقصانات کی نشاندہی اور روک تھام میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو ایسی ٹیکنالوجی تک رسائی اور اس کے استعمال کے لیے مناسب تعاون کی ضرورت پر زور دیا جس میں مضبوط عالمی اشتراک، رعایتی شرائط پر ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور بنیادی ڈھانچے و نظام کی بہتری کے لیے مخصوص مالی معاونت شامل ہے۔
اپنے اختتامی کلمات میں، سفیر عاصم نے زیرو ویسٹ اقدامات کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں ترکیہ کی قیادت کو سراہا، اور کامیاب COP31 کے انعقاد کے لیے صدر نامزد کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔

محکمہ صحت کا ایکشن : لیڈی ولنگٹن ہسپتال کے ویڈیو اسکینڈل پر ایم ایس اور ڈاکٹرز عہد وں سے معطل
- 21 hours ago

ایران کا جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے سے نکلنے پر غور،تین نکاتی منصوبہ تیار
- 2 hours ago

امریکا اپنے زیادہ تر فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے،جلد ایران سے نکل جائیں گے،جے ڈی وینس
- 2 hours ago

انسولین اوردیگر جان بچانے والی دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا،دواساز کمپنیوں کادعویٰ
- 19 hours ago

پاکیزہ ڈرامہ مقبول، عوام کی بڑی تعدا د امڈ آئی،فیروزہ علی، قیصر پیا اور شاہد خان نے میدان مار لیا
- 20 hours ago

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: اسحاق ڈار کی مصر ی وزیر خارجہ کے بعد ترک ہم منصب سے ملاقات
- 2 hours ago

اسحا ق ڈار کا قطری وزیر خارجہ سےٹیلیفونک رابطہ،علاقائی اورعالمی صورتحال پرتبادلہ خیال
- 21 hours ago

اسحاق ڈار سے مصری ہم منصب کی ملاقات، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات سے مسائل حل کرنے پر زور
- 3 hours ago

پی ایس ایل: پشاور زلمی نے راولپنڈیزکو 5 وکٹوں سے شکست دےدی
- 20 hours ago

حکومتی فیصلوں کی بدولت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے، وزیراعظم
- an hour ago

بشریٰ بی بی کو بھی آنکھ کی شکایت،اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل
- 40 minutes ago

پاکستان کی ایران کو چاول، سمندری خوراک، فارماسیوٹیکل مصنوعات اور دیگر اشیاء برآمدکرنےکی اجازت
- 20 hours ago








