Advertisement

لاہور: غازی آباد تھانے میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی، 78 اہلکار معطل

مبینہ زیادتی پر اے ایس آئی گرفتار، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈی آئی جی کی انکوائری کے بعد سخت کارروائی

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 hours ago پر Aug 4th 2026, 9:28 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
لاہور: غازی آباد تھانے میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی، 78 اہلکار معطل

عدنان بھٹی سے

لاہور: غازی آباد تھانے میں 20 سالہ ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی اور غیرقانونی حراست کے مقدمے میں پنجاب پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 78 افسران و اہلکاروں کو معطل کر دیا، جبکہ مرکزی ملزم اے ایس آئی عمران کو گرفتار کرکے اس کے خلاف اغوا اور مبینہ زیادتی سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق واقعہ 2 اگست کو پیش آیا، جب مبینہ طور پر اے ایس آئی عمران لڑکی کو اس کے گھر کے باہر سے تھانے لے گیا، جہاں اسے کئی گھنٹوں تک تفتیشی کمرہ نمبر 4 میں رکھا گیا۔ الزام ہے کہ اس دوران متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ نے متعدد مرتبہ پولیس حکام سے رابطہ کیا، تاہم انہیں تھانے سے واپس بھیج دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے نوٹس میں آنے پر انسپکٹر جنرل آف پنجاب پولیس راؤ عبدالکریم نے ڈی آئی جی فیصل کامران کو براہِ راست انکوائری کی ہدایت کی۔ ڈی آئی جی نے خود تھانے کا دورہ کیا اور ابتدائی انکوائری کے بعد ایس ایچ او، انچارج انویسٹی گیشن اور دیگر افسران و اہلکاروں کو غفلت اور مبینہ طور پر واقعہ رپورٹ نہ کرنے پر معطل کرنے کے احکامات جاری کیے۔

پولیس کے مطابق ملزم اے ایس آئی عمران کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 365 (اغوا) اور 376 (مبینہ زیادتی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ اس کا ڈی این اے نمونہ فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے گی۔ دوسری جانب ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے بھی نگرانی میں غفلت پر انچارج انویسٹی گیشن کو معطل کرکے نیا انچارج تعینات کر دیا ہے، جبکہ نئے ایس ایچ او علی زیب دستگیر نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Advertisement