Advertisement

عبداللہ طاہر قتل کیس: مرکزی مبینہ شوٹر کی شناخت، 6 سہولت کار گرفتار

پولیس کے مطابق مبینہ ٹارگٹ کلر ارسلان جٹ کی تلاش جاری، ڈرون نگرانی، جعلی نمبر پلیٹ اور کرائے کی گاڑی کے استعمال سمیت متعدد پہلوؤں کی تحقیقات جاری

GNN Web Desk
شائع شدہ 10 hours ago پر Aug 4th 2026, 3:13 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
عبداللہ طاہر قتل کیس: مرکزی مبینہ شوٹر کی شناخت، 6 سہولت کار گرفتار

سرفراز احمد سے

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق ٹکٹ ہولڈر عبداللہ طاہر کے قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ٹارگٹ کلنگ کی مبینہ سپاری لینے والے مرکزی شوٹر کی شناخت ارسلان جٹ کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ مقدمے میں مبینہ سہولت کاری کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ارسلان جٹ مبینہ طور پر گوجرانوالہ سے کرائے پر حاصل کی گئی گاڑی میں دو مبینہ شوٹرز کو لاہور لایا، جبکہ ایک سہولت کار موٹر سائیکل پر لاہور پہنچا۔ بعد ازاں گلبرگ کے علاقے میں مبینہ شوٹرز کو موٹر سائیکل فراہم کی گئی، جسے واردات میں استعمال کیا گیا۔

پولیس کے مطابق واردات کے بعد ارسلان جٹ مبینہ شوٹرز کو دوبارہ گاڑی میں بٹھا کر فرار ہو گیا۔ تحقیقات کے دوران استعمال ہونے والی گاڑی اور موٹر سائیکل کو تحویل میں لے لیا گیا ہے، جبکہ مرکزی مبینہ شوٹر اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق تفتیش میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ مقتول عبداللہ طاہر کی نقل و حرکت پر مبینہ طور پر ڈرون کیمروں کے ذریعے نظر رکھی گئی۔ اس مقصد کے لیے جدید سہولیات کے حصول پر بھاری اخراجات کیے جانے کے پہلو کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس واقعے سے قبل مقتول کے گھر کے اطراف ڈرون پروازوں سے متعلق اطلاعات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

تحقیقات کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر کرائے کی گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ لگا کر واردات کی اور فرار ہونے کے بعد دوبارہ اصل نمبر پلیٹ نصب کر دی۔ پولیس اس پہلو کی بھی چھان بین کر رہی ہے کہ منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں کن افراد نے کردار ادا کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مبینہ ٹارگٹ کلنگ کی سپاری کس نے دی، تاہم مقتول عبداللہ طاہر کے مختلف افراد کے ساتھ کاروباری لین دین کو بھی تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں شک کی بنیاد پر سینکڑوں افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی روشنی میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Advertisement