محکمہ صحت کا ایکشن : لیڈی ولنگٹن ہسپتال کے ویڈیو اسکینڈل پر ایم ایس اور ڈاکٹرز عہد وں سے معطل
اسپتال کی چارج نرس اقرا زاہد،چارج نرس فوزیہ رشید ،باورچی حسیب الرؤف کو پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے معطلی کے بعد فرائض سے سبکدوش کر دیا گیا


لاہور: لیڈی ولنگٹن ہسپتال کے گائنی آپریشن تھیٹر کی ویڈیو وائرل ہونے کے معاملے میں ایم ایس لیڈی ولنگڈن ہسپتال ڈاکٹر فرح انعام کو معطل کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق فرائض میں سنگین غفلت پر ہیڈ آف گائنی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین کو عہدے سے فارغ کیا گیا ہے،ایس ایم کے ساتھ پانچ پی جی آرز جبکہ دو چارج نرسز کو معطل کر کے ہیڈکوارٹرز رپورٹ کرنے کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔
لیڈی ولنگڈن ہسپتال کی چارج نرس اقرا زاہد، چارج نرس فوزیہ رشید ،باورچی حسیب الرؤف کو پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے معطلی کے بعد فرائض سے سبکدوش کر دیا گیا۔
علاوہ ازان وومن میڈیکل افسر ڈاکٹر اقرا حفیظ کی خدمات کو محکمہ صحت و آبادی کو واپس کر دیا گیا ہے، ڈاکٹر آمنہ رشید کی پوسٹ گریجوایٹ ٹریننگ معطل کر دی گئی ہے جبکہ انہیں محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز لیڈی ویلینگڈن اسپتال کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو حاملہ خواتین کے آپریشن کے دوران کچھ ڈاکٹرز مبینہ طور پر آپس میں مقابلہ کر رہے تھے کہ کون پہلے سرجری مکمل کرتا ہے۔
اس دوران نہ صرف ویڈیو بنائی گئی بلکہ مریضوں کے وقار کا خیال رکھے بغیر قہقہے بھی لگائے گئے۔ اس سنگین غفلت پر ایکشن لیتے ہوئے حکومت پنجاب نے چار ڈاکٹروں کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹرز آپس میں ’فُل مقابلے‘ کی باتیں کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کو جلدی کام ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں،جبکہ اس تمام عمل کے لیے ایک ڈاکٹر کو بطور ’جج‘ بھی مقرر کیا گیا تھا۔
ویڈیو میں سنائی دیتا ہے کہ ’یہاں پر فُل مقابلہ چل رہا ہے کہ کون پہلے سیکشن کرتا ہے، ڈاکٹر عائشہ یا ڈاکٹر طیبہ۔‘
دوسری جانب صوبائی حکومت نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے طبی ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اس حوالے سےوزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ مریض کا وقار اور اس کی پرائیویسی سب سے مقدم ہے، اور اس طرح کا غیر پیشہ ورانہ رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا،ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ سرکاری ذمہ داریوں میں غفلت کی بدترین مثال ہے جس نے عوام کا ڈاکٹروں پر اعتماد ٹھیس پہنچایا ہے۔
محکمہ صحت پنجاب نے نہ صرف متعلقہ ڈاکٹروں کو معطل کیا ہے بلکہ اسپتال کی ایم ایس اور گائنی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ سے بھی تین روز کے اندر وضاحت طلب کر لی ہے۔
سیکریٹری صحت نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت میں تسلی بخش جواب نہ ملا تو ہسپتال کی انتظامیہ کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی ڈیوٹی کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پہلے ہی پابندی عائد ہے، تاہم اس واقعے نے اسپتالوں میں ان قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

آرمی راکٹ فورس کا مقامی تیار کردہ فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
- 5 گھنٹے قبل

معروف مصنفہ، اور دانشور ڈاکٹر صائمہ شہزادی کی نئی کتاب "سلطنتِ عثمانیہ کا عروج و زوال" شائع کر دی گئی
- 4 گھنٹے قبل

ڈی جی آئی ایس پی آر کی شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی میں خصوصی نشست،اساتذہ، اورطلبہ نے پرتپاک استقبال کیا
- 5 گھنٹے قبل

پاکستان کا ایٹمی پروگرام رہتی دنیا تک اسکا دفاعی اثاثہ رہے گا،شہباز شریف
- 4 گھنٹے قبل

ٹرمپ کی چینی صدر سے ملاقات، تجارت ،دو طرفہ تعلقات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
- 5 گھنٹے قبل

معروف ادیب اورمشہور کٹھ پتلی شو انکل سرگم کے خالق فاروق قیصر کو مداحوں سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے
- 4 گھنٹے قبل

ایک دن کی کمی کے بعد سونا پھر مہنگا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 32 منٹ قبل

ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں،دفتر خارجہ
- 5 گھنٹے قبل

آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کیلئے پی سی بی نے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا
- 2 گھنٹے قبل

ایس او پیز کی خلاف ورزی: 7 اداکاراؤں اور ایک اداکار پر پنجاب بھر میں کام کرنے پر پابندی عائد
- ایک گھنٹہ قبل

نامور شاعر ایس ایم صادق کو گراں قدر ادبی خدمات پر صدارتی اعزاز سے نواز دیا گیا
- 2 گھنٹے قبل

ایوانِ صدر میں فوجی اعزازات کی پروقار تقریب، افسران و جوانوں کو تمغوں سے نوازا گیا
- ایک گھنٹہ قبل







.jpg&w=3840&q=75)







