اسلام آباد: پاکستان نجی کمپنیوں کو من مانی قیمت میں کورونا ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دے گا۔

غیر ملکی رساں ادارے کے مطابق معاون خصوصی برائے صحت فیصل سلطان نے کہا کہ نجی کمپنیوں کو من مانی قیمت میں کورونا ویکسین درآمد کرنے کی اجازت سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ، "ہم قیمتوں پر نظر رکھیں گے اور ظاہر ہے کہ ہم ان کی قیمت خرید دیکھ لیں گے کہ کہیں قیمت ذیادہ تو نہیں ہے اور حکومت کبھی بھی مداخلت کرنے کا حق رکھتی ہے۔
اس وقت پاکستان میں ہنگامی استعمال کے لئے منظور شدہ صرف تین ویکسین سینوفرم ، آسٹر زینیکا اور اسپوٹنک وی ہیں۔
دستاویزات میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ وزارت صحت کے قومی صحت خدمات ، ضابطے اور کوآرڈینیشن ڈویژن نے کابینہ سےکورونا ویکسین کی درآمد کی اجازت دینے کے لئے خصوصی استثنیٰ مانگا تھا ۔ عام طور پرحکومت درآمد شدہ ادویات کی حد قیمت کرتی ہے جو کہ اس تناظر میں نہیں کی گئی۔
" مختلف ذرائع سے ویکسین کی درآمدی قیمتوں کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں تھی ، "دستاویز کا کہنا ہے ،" مذکورہ بالا حقائق کے مطابق ممکن ہے کہ زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت کا تعین کرنا ممکن نہ ہو۔ "
فیصل سلطان نے بتایا کہ پاکستان نے ابھی بھی اپنی آبادی کو مفت ویکسین لگانے کا ارادہ کیا ہے اور صرف ایک "چھوٹا سا طبقہ" جو ویکسین کی ادائیگی کرنا چاہتا ہے اسے اختیار حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا ، " وہ لوگ جو نجی کمپنیوں کے ذریعہ یہ ویکسین حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ جتنے مرضی پیسے ادا کریں گے۔معاون خصوصی نے کہا کہ ذاتی طور پر میرا اندازہ یہ ہے کہ جب ویکسینیں دستیاب ہوں گی اور ہمارا مارکیٹ میں مقابلہ ہوگا تو یہ قیمتیں خود بخود طے ہوجائیں گی۔"
جبکہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وفاقی کابینہ نے کچھ متعلقہ قواعد و ضوابط کو چھ ماہ کے لئے معطل کیا تاکہ نجی کمپنیاں ذیادہ سے ذیادہ قیمتیں رکھ سکے۔
فیصل سلطان نے کابینہ کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اس اصول کی منظوری ہے کہ نجی کمپنیاں ویکیسن درآمد کرسکتی ہیں اور حوالہ قیمت کی عدم دستیابی کی وجہ سے قیمتوں کا تعین کرسکتی ہیں۔
ماہرین نے کمرشل درآمدات کی اجازت دینے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھایا ہے اور نجی کمپنیوں کیلئے قیمت کی حد مقرر نہ کرنے کی وجہ سے مارکیٹ میں اس کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔
550,000سے زیادہ کورونا کیسز اور 12000 اموات کے ساتھ ، پاکستان نے ابھی تک کسی بھی کمپنی سے ویکسین نہیں خریدی اور صرف رواں ماہ ہی چین نے سینوفرم کی ویکسین کی500,000 خوراکوں کے ساتھ ایک ویکسینیشن مہم چلائی تھی۔جو ابھی تک صرف 27,228 ہیلتھ ورکرز کو لگائی گئی ہے۔
پاکستان بنیادی طور پر GAVI / WHO CoVAX ویکسین کی مہم پر انحصار کرتا ہے جس کا مقصد غریب ممالک کو مفت ویکیسن مہیا کرنا ہے۔اس مہم کے ذریعے 17 ملین ڈوز ملیں گے جن کا کوئی پتہ نہیں کہ کب ملیں گی۔
* اس تحریر کے اعداد و شمار کو رائٹرز سے لیا ہے۔

مذاکرات میں پیشرفت امریکی رویے کی تبدیلی سے مشروط ہے، ایرانی سفیر
- 19 گھنٹے قبل

بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں پراکسی وار کر رہا ہے،وزیر دفاع
- 17 گھنٹے قبل

پی ایس ایل: فائنل کی رنگا رنگ تقریب کا انعقاد، قذافی اسٹیڈیم میں ہاؤس فل
- 19 گھنٹے قبل

جمائما گولڈ اسمتھ نے معروف ارب پتی فنانسر سے منگنی کر لی،جلد شادی کا امکان
- ایک دن قبل

سچائی کے بغیر امن ممکن نہیں،صحافت کا کردار جمہوری معاشرے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے،صدر اور وزیر اعظم کا پیغام
- ایک دن قبل

نئی دہلی کی رہائشی عمارت میں اے سی پھٹنے سے خوفناک آتشزدگی،9 افراد جانبحق
- ایک دن قبل

پاکستان رینجرزاکیڈمی منڈی بہاؤالدین میں ریکروٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا شاندارانعقاد
- ایک دن قبل

وزیر داخلہ محسن نقوی کا لاہور میں نادرا سنٹر کا دورہ، ناقص انتظامات پر شدید برہم
- 17 گھنٹے قبل

یوم آزادی صحافت: سچ اب جعلی کیوں لگنے لگا ہے؟
- ایک دن قبل
مراکش میں مشترکہ مشق ’’افریقن لائن‘‘ کے دوران 2 امریکی فوجی اہلکار لاپتہ
- 19 گھنٹے قبل

ایران کی نئی تجاویز مل گئیں ، جلد جائزہ لوں گا، دوبارہ حملے کے امکانات موجود ہیں، ٹرمپ
- ایک دن قبل

پی ایس ایل فائنل: حیدر آباد کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی،زلمی کو جیت کیلئے 130رنز کا ہدف
- 17 گھنٹے قبل





.jpg&w=3840&q=75)

.jpg&w=3840&q=75)




