حکومت معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر اب پائیدار معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے،وزیر خزانہ
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ سب سے کم ٹیکس سلیب پر شرح 5 فیصد سے کم کرکے 1 فیصد کر دی گئی ہے،وزیر خزانہ


اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر اب پائیدار معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے،وفاقی بجٹ کاروبار، برآمدات اور تنخواہ دار طبقے کے لیے سازگار ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے کوشش کی کہ کم تنخواہ دار طبقے کو زیادہ ریلیف ملے، تنخواہ پر 5 فیصد ٹیکس کو ایک فیصد کیا اور 15 فیصد کو 13 فیصد کیا جب کہ بڑی تنخواہوں اور سرچارج اقدامات پر ہمیں اچھا فیڈ بیک ملا ہے۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں ٹیکسوں کو کم کیا ہے، زراعت پر ایگریکلچر کریڈٹ 15 فیصد بڑھی ہے، حجم 2 ٹریلین سے زیادہ ہے، زرخیزی اسکیم بہتر انداز سے آگے بڑھ رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ چھوٹے کسانوں کو اپنے گھر گروی رکھنے کے لیے نہیں کہا جائے گا، نوجوان قرض اسکیم کا حجم 262 ارب روپے ہے جس میں 125 ارب زراعت کے لیے ہے، زرعی شعبے کی مشینری باہر سے منگوانے پر کسٹم ڈیوٹی، ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی صفرکر دی ہے۔
پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم معاشی ترقی کی طرف چل پڑے ہیں، اس سال معاشی لحاظ سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، معیشت درست سمت میں گامزن ہے، ہم معاشی استحکام سے گروتھ کی جانب بڑھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں ہم نے ٹیکس اور ایکسپورٹ کے نظام کےلیے کام کیا، 70 ارب روپے کی ایڈیشنل سبسڈی دی گئی ہے،بجٹ میں کوشش کی ہے کہ برآمدات بڑھانے کے لیے قابل عمل اقدامات کیے جائیں۔
زراعت کے شعبے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کسانوں کے لیے سہولتیں بڑھائی گئی ہیں اور زرعی قرضوں کی فراہمی کا حجم 20 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ بجٹ میں زرعی شعبے کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ سب سے کم ٹیکس سلیب پر شرح 5 فیصد سے کم کرکے 1 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ 15 فیصد ٹیکس والے سلیب کو کم کرکے 13 فیصد کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے قرض پروگرام کے لیے 262 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 125 ارب روپے صرف زرعی شعبے کے قرضوں کے لیے رکھے گئے ہیں تاکہ کسانوں کو مالی معاونت فراہم کر کے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔
پریس کانفرنس میں محمدا ورنگزیب نے کہا کہ صوبوں کی طرف سے مرکز کی امداد پر شکر گزار ہوں، یہ سہولت آئندہ تین مالی سال جاری رہے گی۔
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- 4 دن قبل
آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ میں معلوماتی و تربیتی سیشنز
- 17 گھنٹے قبل
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- 3 دن قبل
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- 4 دن قبل
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- 4 دن قبل
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- 4 دن قبل
خاتون فٹبالر سمندر میں اچانک ڈوب گئ، کہاں پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی؟
- 16 گھنٹے قبل

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- 4 دن قبل
پولیس کا جنون، لڑکی نے خودکشی کیوں کی؟
- 17 گھنٹے قبل
پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے نئی لگنے والی شرط کیا ہے؟
- 17 گھنٹے قبل
عبداللہ طاہر قتل کیس: مرکزی مبینہ شوٹر کی شناخت، 6 سہولت کار گرفتار
- 17 گھنٹے قبل

لاہور: غازی آباد تھانے میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی، 78 اہلکار معطل
- 10 گھنٹے قبل







