Advertisement
پاکستان

 صرف خدشات یا مبہم وجوہات کی بنیاد پرکسی شہری کو بیرون ملک سفر سے نہیں روکا جا سکتا،لاہور ہائیکورٹ

عدالت نے واضح کیا کہ درست ویزا،ٹکٹ اور دیگر سفری دستاویزات رکھنے والے شہری کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی اقدام ہے،بیرون ملک سفر ہر شہری کا بنیادی حق ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 months ago پر May 29th 2026, 4:58 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
 صرف خدشات یا مبہم وجوہات کی بنیاد پرکسی شہری کو بیرون ملک سفر سے نہیں روکا جا سکتا،لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے مسافروں کو آف لوڈ کرنے سے متعلق ایف آئی اے کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی بھی شہری کو صرف خدشات یا مبہم وجوہات کی بنیاد پر بیرون ملک سفر سے نہیں روکا جا سکتا۔اس حوالے سے جسٹس راحیل کامران نے ایک شہری کی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں نائجیریا جانے سے روکنے کے ایف آئی اے کے اقدام کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔

جاری کر دہ فیصلے میں عدالت نے کہا کہ کسی مسافر کو آف لوڈ کرتے وقت متعلقہ افسران کو تفصیلی اور بامعنی وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرنا ہوں گی، جبکہ مسافر سے کیے گئے سوالات اور ان کے جوابات بھی باقاعدہ محفوظ کیے جائیں گے۔

علاوہ ازاں فیصلے میں ہدایت کی گئی کہ جہاں ممکن ہو، امیگریشن انٹرویو یا گفتگو کو الیکٹرانک طور پر بھی محفوظ بنایا جائے، جبکہ آف لوڈنگ آرڈر یا متعلقہ پروفارما کی کاپی متاثرہ مسافر کو فراہم کرنا لازم ہو گا،عدالت نے واضح کیا کہ درست ویزا، ٹکٹ اور دیگر سفری دستاویزات رکھنے والے شہری کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی اقدام ہے۔ فیصلے کے مطابق بیرون ملک سفر ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ایف آئی اے کے اختیارات لامحدود نہیں۔

دوران سماعت درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ امیگریشن کلیئرنس اور بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے باوجود انہیں آف لوڈ کیا گیا۔ عدالت کے مطابق ایف آئی اے نے شہری کو صرف اس خدشے پر سفر سے روکا کہ شاید وہ دبئی سے واپس نہ آئے۔

Advertisement
Advertisement