پاکستان نے 2023 کے بعد پہلی بار ایل این جی کارگو کیلئے تین ٹینڈر جاری کر دیے
یہ ٹینڈر حالیہ بجلی کی قلت کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے باعث گزشتہ ہفتے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ ہوئی، ہائیڈرو پاور میں کمی اور ایل این جی سپلائی میں خلل نے بڑھتی ہوئی طلب کے دوران ایندھن کی کمی کو واضح کیا


کراچی: پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے دسمبر 2023 کے بعد پہلی بار مائع قدرتی گیس کے کارگو کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث رسد کی کمی کا سامنا ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق کمپنی نے بین الاقوامی سپلائرز سے تقریباً 140,000 مکعب میٹر کے تین ایل این جی کارگو کے لیے بولیاں طلب کی ہیں، جن کی ترسیل 27 سے 30 اپریل، یکم سے 7 مئی اور 8 سے 14 مئی کے درمیان بن قاسم بندرگاہ کراچی میں متوقع ہے، ٹینڈر 24 اپریل کو بند ہوگا۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ ٹینڈر کا مقصد بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا اور مہنگے ڈیزل اور فرنس آئل پر انحصار کم کرنا ہے، حکومت کو یقین نہیں کہ قطر سے مزید کارگو کب موصول ہوں گے۔
یہ ٹینڈر حالیہ بجلی کی قلت کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے باعث گزشتہ ہفتے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ ہوئی، ہائیڈرو پاور میں کمی اور ایل این جی سپلائی میں خلل نے بڑھتی ہوئی طلب کے دوران ایندھن کی کمی کو واضح کیا۔
پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد کوئی ایل این جی کارگو موصول نہیں ہوا، کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تقریباً تمام شپنگ بند کر دی ہے، جو خلیج کو بحرِ ہند سے ملاتا ہے، قطر اپنی توانائی کی برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتا ہے، گزشتہ سال پاکستان کی 6.64 ملین میٹرک ٹن ایل این جی درآمدات کا بڑا حصہ قطر سے آیا تھا۔
علاوہ ازاں آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی (سوکار) نے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد کی درخواست پر فوری طور پر ایل این جی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، 2025 میں سوکار ٹریڈنگ اور پاکستان ایل این جی کے درمیان ایک فریم ورک معاہدہ بھی ہوا تھا، جس کے تحت تیز تر طریقہ کار کے ذریعے خریداری ممکن ہے۔
جبکہپاکستان نے 27-2026ء کے لیے ای این آئی کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کے تحت 21 ایل این جی کارگو منسوخ کر دیے تھے، کیونکہ توقع تھی کہ طلب میں کمی آئے گی اور شمسی توانائی سے بجلی کی فراہمی بڑھے گی، تاہم حالیہ سپلائی مسائل نے اس حکمت عملی کو آزمائش میں ڈال دیا۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق اگرچہ مقامی اور قابلِ تجدید توانائی پر بڑھتے انحصار نے کچھ حد تک اثر کم کیا ہے، لیکن پاکستان اب بھی سپلائی جھٹکوں کے لیے حساس ہے، اور گرمیوں میں زیادہ طلب کے دوران لوڈشیڈنگ سے بچنے کے لیے ایل این جی ضروری ہے۔
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نے ایشیائی سپاٹ قیمتوں کو تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے، آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے عالمی ایل این جی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد سنبھالتی تھی، ماہرین نے مطابق عالمی ایل این جی سپلائی کے اندازوں کو کم کر دیا ہے اور توقع ہے کہ بلند قیمتیں اور قلت ایشیا بھر میں طلب میں کمی کا باعث بنیں گی۔

ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں بھی توسیع کا اعلان کردیا
- 3 hours ago

عباس عراقچی کا اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سے رابطہ، خطے کی صورتحال اور جنگ بندی کے امور پر تبادلہ خیال
- 3 hours ago

چین کی اپنے شہریوں کو فوری ایران سے نکلنے کی ہدایت کر دی
- 3 hours ago

سیکیورٹی فورسز کی ضلع خیبر میں کامیاب کارروائی،22 خارجی دہشتگرد جہنم واصل
- 3 hours ago

بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ آبدوز کے داخلی راستے پر پھنس گئے،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- 2 hours ago

پاکستان نےمتحدہ عرب امارات کےتمام ڈپازٹس بروقت واپس کردیے
- 3 hours ago

پہلگام واقعہ سے متعلق بھارتی الزامات بے بنیاداور پروپیگنڈا ہیں،دفتر خارجہ
- 21 hours ago

فلم ’حق‘ کیلئےاداکارہ یمی گوتم نے 4 ماہ تک قرآن سیکھا، ڈائریکٹرکا انکشاف
- 2 hours ago

پہلگام فالس فلیگ حملے کے بعد سکھ برادری اور سکھ فارجسٹس کا پاکستان سے غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ
- 3 hours ago

ایرانی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سے رابطہ،عراقچی کی وفد کے ہمراہ اسلام آباد آمد متوقع
- an hour ago

موسمی رحجان ’’ال نینو‘‘کی واپسی متوقع، عالمی درجہ حرارت میں خطرناک اضافے کا خدشہ
- 27 minutes ago

بھارتی فوج تمام تر وسائل کے باوجود پاکستان کو شکست نہیں دے سکتی، فیلڈ مارشل عاصم منیر
- 4 hours ago



.jpg&w=3840&q=75)
.jpg&w=3840&q=75)



.jpg&w=3840&q=75)
