پنجاب حکومت کے طیارے پر بحث جذبات اور سیاست کے بجائے عقل اور حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے،ماہرین
موجودہ طیارہ طویل عرصے سے زیر استعمال تھا اور تکنیکی طور پر پرانا ہو چکا تھا، جس کے باعث اس کی دیکھ بھال پر بڑھتے اخراجات اور حفاظتی خدشات میں اضافہ ہو رہا تھا،ذرائع


لاہور: حکومتِ پنجاب کے نئے سرکاری طیارے کی خریداری سے متعلق جاری بحث میں ماہرین نے زور دیا ہے کہ معاملے کو جذبات یا سیاسی تناظر کے بجائے حقائق اور انتظامی ضرورت کی بنیاد پر دیکھا جائے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق صوبائی حکومتوں کی جانب سے سرکاری فضائی سہولتوں کا استعمال کوئی نئی روایت نہیں بلکہ ایک انتظامی ضرورت ہے۔ ہنگامی دوروں، قدرتی آفات میں فوری رسپانس، بین الصوبائی رابطوں اور ریاستی امور کی بروقت انجام دہی کے لیے ایسی سہولتیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ طیارہ طویل عرصے سے زیر استعمال تھا اور تکنیکی طور پر پرانا ہو چکا تھا، جس کے باعث اس کی دیکھ بھال پر بڑھتے اخراجات اور حفاظتی خدشات میں اضافہ ہو رہا تھا۔
ماہرین کے مطابق ہوا بازی کے شعبے میں سب سے مہنگا پہلو صرف خریداری نہیں بلکہ مینٹیننس اور حفاظتی رسک ہوتا ہے۔ پرانا طیارہ بظاہر کم خرچ محسوس ہوتا ہے، تاہم مرمت، گراؤنڈ ٹائم اور ممکنہ تکنیکی مسائل طویل مدت میں زیادہ مالی بوجھ کا باعث بن سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق نیا طیارہ خرچ نہیں بلکہ طویل مدتی سرمایہ کاری تصور کیا جا رہا ہے۔ اس کی متوقع آپریشنل مدت 30 سے 40 سال بتائی گئی ہے، جب کہ جدید طیاروں کی مینٹیننس لاگت نسبتاً کم اور ری سیل ویلیو برقرار رہتی ہے۔
حکومتی مؤقف ہے کہ یہ اثاثہ کسی ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ آنے والی تمام حکومتوں کے استعمال کے لیے ہوگا، اس لیے اسے ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
مزید برآں، ذرائع کا کہنا ہے کہ پرانے طیارے کی فروخت، کولیٹرل ویلیو اور ممکنہ کارپوریٹ یا چارٹر استعمال کے ماڈل کے ذریعے اخراجات کا ایک حصہ پورا کیا جا سکتا ہے، تاکہ قومی خزانے پر بوجھ کم رکھا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی حکومتی خریداری کا جائزہ لیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا فیصلہ طویل مدتی فائدے، سلامتی اور انتظامی کارکردگی میں بہتری کا باعث بنتا ہے یا نہیں۔ اگر ایسا ہے تو اسے سیاسی معاملہ بنانے کے بجائے پالیسی فیصلے کے طور پر پرکھا جانا چاہیے۔

خیبرپختونخوا کا 2122 ارب کا بجٹ پیش، تنخواہ و پنشن میں 7 فیصد اضافہ ،کم سے کم اجرت 45 ہزار مقرر
- 13 hours ago

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان
- 13 hours ago

حکومت اور پی ٹی آئی کے رابطے پھر بحال، وزیر خزانہ کی اپوزیشن وفد سے ملاقات
- 11 hours ago

لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا
- 13 hours ago

مریم نواز کی ٹرانسپورٹ اور گڈز کرایوں میں کمی کیلئے متعلقہ محکموں کو فوری اقدامات کی ہدایت
- 11 hours ago

طالبان رجیم کا کے پی اوربلوچستان میں مبینہ داعش کیمپس کو ڈرونز سے نشانہ بنانےکا پروپیگنڈا بے نقاب
- 15 hours ago

خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا،سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
- 12 hours ago

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سوشل میڈیا پر جاری کردیں
- 15 hours ago

معاہدے کا کمزور فریق واشنگٹن نہیں بلکہ تہران ہے، ایران کو کوئی مالی رعایت نہیں دیں گے،ٹرمپ
- 12 hours ago
.jpeg&w=3840&q=75)
بلوچستان ٹیویٹا کے وفد کا پنجاب کے ہنر مندی نظام سے سیکھنے کیلئے پی ایس ڈی ایف کا دورہ
- 9 hours ago

معاہدے کی خلاف ورزی یا غیر ضروری مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت جواب دیا جائے گا،قالیباف
- 12 hours ago

ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے 2 ساتھی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
- 13 hours ago










