Advertisement
تجارت

وزیر خزانہ نے قومی اقتصادی سروے پیش کر دیا، کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے،معاشی ترقی3.7 فیصد رہی

زرعی شعبے میں گروتھ کا ہدف 4.5 فیصد کی بجائے ترقی کی شرح 2.8 فیصد رہی، فصلوں کیلئے ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 2.4 فیصد رہی ہے،رپورٹ

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 days ago پر Jun 11th 2026, 3:21 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
وزیر خزانہ نے قومی اقتصادی سروے پیش کر دیا، کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے،معاشی ترقی3.7 فیصد رہی

اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پورے سال کی مالی کارکردگی پر مبنی اقتصادی سروے جاری کر دیا جس کے مطابق کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے۔جبکہ ملکی معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی۔

تفصیلات کے مطابق قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی سروے پورے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے، رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا اور مون سون کی بارشوں کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی جب کہ امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، معاشی ترقی کی شرح نمو3.7فیصد رہی، توقع تھی رواں مالی سال شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے اوپر جاتی، پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا، فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751ڈالر سے بڑھ کر 1901ڈالر ہوگئی۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال سے بین الاقوامی معیشتوں کو بھی دھچکا لگا لیکن مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی۔

انہوں نے مزیدکہا کہ پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد گروتھ ہوئی، جولائی تا مارچ کرنٹ اکاوئنٹ 72 ملین ڈالر مثبت رہا، زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصدرہی، ڈیری اورلائیو سٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصدحصہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی ، فوڈ ،ٹیکسٹائل سمیت 16 شعبوں میں مثبت رجحان رہا، سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد اضافہ ہوا، کھاد کی طلب میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، خدمات کے شعبے میں شرح نمو 4.9 فیصد رہی۔

وزیر خزانہ کے مطابق مالی نظم و ضبط کی وجہ سے مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی ہوئی، ایف بی آر کے محصولات میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا، افراط زر میں گزشتہ 2 سال میں بتدریج کمی ہوئی، مہنگائی کی اوسط شرح 6.7 فیصد رہی، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ترسیلات زر 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، اوورسیز پاکستانیوں کے شکرگزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی ادائیگی کیلئے ترسیلات زر بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا مقصد سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، چاول اور چینی کی وجہ سے مجموعی برآمدات میں کمی ہوئی، ٹیکسٹائل کے شعبے کا برآمدات میں کلیدی کردار ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان کا بنا ہوا فٹ بال استعمال ہوگا، سپورٹس کی برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد ہیں،جون کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، 39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، فری لانسرز کا حصہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ رہا ہے، مینو فیکچرنگ کے 22 میں سے 16 شعبوں میں بہتری آئی، مالی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد رہ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 252 ملین ڈالر رہ گیا، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، پانڈا بانڈ کا کامیاب اجراء کیا گیا، ٹیکس محصولات میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا، وزیراعظم برآمدات کو بڑھانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

گزشتہ مالی سال کی قومی اقتصادی سروے رپورٹ

قومی اقتصادی سروے کے مطابق زرعی شعبے میں گروتھ کا ہدف 4.5 فیصد کی بجائے ترقی کی شرح 2.8 فیصد رہی، فصلوں کیلئے ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 2.4 فیصد رہی ہے، لائیو سٹاک کیلئے ترقی کا ہدف 4.2 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 3.7 فیصد ہے۔

اسی طرح جنگلات کیلئے ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا، شرح نمو2 فیصد ہے، ماہی گیری کیلئے ترقی کا ہدف3 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 1.6 فیصد رہی، صنعت کیلئے ترقی کا ہدف 4.3 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 3.5 فیصد رہی۔جبکہ معدنیات کیلئے ترقی کا ہدف 3 فیصد تھا جبکہ اس کی شرح نمو 0.38 فیصد ہے، پیداواری شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 4.7 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 6.6 فیصد رہی، بڑی صنعتوں کیلئے ترقی کا ہدف 3.5 فیصد تھا جبکہ شرح نمو 6.1 فیصد رہی۔

سروے رپورٹ کے مطابق چھوٹی صنعتوں کیلئے ترقی کا ہدف 8.9 فیصد تھا جبکہ ترقی کی شرح 8.5 فیصد رہی، بجلی گیس اور واٹر سپلائی کی نمو کا ہدف 3.5 تھا لیکن گروتھ منفی ریکارڈ ہوئی، بجلی گیس و واٹر سپلائی میں 10 فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔

اسی طرح تعمیرات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 3.8 فیصد جبکہ ترقی کی شرح 5.7 فیصد رہی ہے، خدمات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 4 فیصد تھا جبکہ ترقی کی شرح 4.09 فیصد ریکارڈ ہوئی، ہول سیل و ریٹیل کے شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 3.9 فیصد تھا اور شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔

جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 3.4 فیصد کی نابت 2.3 فیصد تک ریکارڈ ہوئی، ہوٹل انڈسٹری و فوڈ کے شعبے میں ترقی کا ہدف 4.1 فیصد جبکہ شرح نمو 3.9 فیصد رہی، معلومات اور مواصلات کے شعبے میں ترقی کا ہدف 5 فیصد کی نسبت 7.5 فیصد رہی ہے۔

علاوہ ازاں سروے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انشورنس اور مالیاتی شعبے کیلئے ترقی کا ہدف 5 فیصد جبکہ گروتھ محض صفر 0.32 فیصد رہی، رئیل سٹیٹ سیکٹر میں ترقی کا ہدف4.2 فیصد جبکہ شرح نمو 3.6 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے، شعبہ تعلیم میں شرح نمو 4.5 فیصد کی نسبت ترقی کی شرح 5.2 فیصد رہی ہے۔

جبکہ سماجی شعبے کیلئے ترقی کی شرح 4 فیصد کی مسبت شرح نمو 6.8 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے، نجی شعبے کے لیے ترقی کی شرح 4.5 فیصد مقرر کی گئی تھی جبکہ شرح نمو 3.6 فیصد رہی، اہم فصلوں کیلئے گروتھ منفی 4.5 فیصد کی نسبت شرح نمو 0.65 فیصد رہی ہے۔

اسی طرح گندم کی پیداوار 4.3 فیصد اضافے سے 2 کروڑ 96 لاکھ 5 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے، چاول کی پیداوار 2.8 فیصد بڑھ کر 99 لاکھ 98 ہزار ٹن ریکارڈ ہوئی، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا، پیداوار 8 کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار ٹن رہی ہے۔
 مکئی کی پیداوار 2.68 فیصد کمی سے 87 لاکھ 94 ہزار ٹن رہی، کپاس کی پیداوار 0.5 فیصد کمی کیساتھ پیداوار 70 لاکھ 52 ہزار گانٹھیں رہی ہے، چنے کی پیداوار میں غیر معمولی 50.4 فیصد گروتھ ریکارڈ کی گئی ہے۔

اسی طرح ملک میں آلو کی پیداوار 27.6 فیصد جبکہ کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی ہے، آم، ہلدی اور مرچ کی پیداوار میں بالترتیب 11.6، 25.1 اور 9.2 فیصد اضافہ ہوا، لائیو سٹاک شعبہ 3.75 فیصد بڑھا، پیداوار میں 3.46 فیصد اضافہ معاون ثابت ہوا۔

مکئی کی پیداوار 8.8 ملین ٹن جبکہ آلو پیداوار 389 ہزار ٹن رہی، سبزیوں کی پیداوار میں 12.6 فیصداضافہ ہوا سبزیوں کی پیداوار 403 ہزار ٹن رہی، پھلوں کی پیداوار میں 2.8 فیصداضافہ کیساتھ پیداوار 444 ہزار ٹن رہی، مالی سال 2025-26 کے دوران لائیو اسٹاک میں 3.8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سروے رپورٹ کےمطابق ملک میں بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ اور گائے بیل کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ ریکارڈ ہوئی، دنبے اور بھیڑ کی 3 کروڑ 35 لاکھ جبکہ بکری اور بکرے 9 کروڑ 18 لاکھ ریکارڈ ہوئی۔

اکنامک سروے کے مطابق اونٹ کی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار جبکہ گھوڑوں کی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک ہے، رواں مالی سال کے دوران گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک ریکارڈ ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ قومی اقتصادی سروے کے مطابق کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہیں ہو سکے ہیں، قومی اقتصادی سروے باضابطہ طور پر آج جاری کیا جائے گا۔

Advertisement
سرکاری ملازمین کیلئے اچھی خبر، حکومت نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی منظوری دیدی

سرکاری ملازمین کیلئے اچھی خبر، حکومت نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی منظوری دیدی

  • ایک دن قبل
جس بہتری، ریلیف کا وعدہ کیا اسکا آغاز ہوچکا ہے، یہ  ریلیف اور عومی فلاح کا بجٹ ہے،شہبازشریف

جس بہتری، ریلیف کا وعدہ کیا اسکا آغاز ہوچکا ہے، یہ  ریلیف اور عومی فلاح کا بجٹ ہے،شہبازشریف

  • 18 گھنٹے قبل
دنیا بھر میں فیس بک اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر، صارفین کو مشکلات کا سامنا

دنیا بھر میں فیس بک اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر، صارفین کو مشکلات کا سامنا

  • 18 گھنٹے قبل
 وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال کا ساڑھے 17 ہزار ارب کے وفاقی بجٹ کا مسودہ منظورکرلیا 

 وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال کا ساڑھے 17 ہزار ارب کے وفاقی بجٹ کا مسودہ منظورکرلیا 

  • ایک دن قبل
شمالی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید 21 دہشت گرد ہلاک، مجموعی تعداد 48 ہو گئی

شمالی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید 21 دہشت گرد ہلاک، مجموعی تعداد 48 ہو گئی

  • ایک گھنٹہ قبل
وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ سی ایم ایچ پشاور، پاک فوج اور ایف سی کے اہلکاروں کی عیادت کی

وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ سی ایم ایچ پشاور، پاک فوج اور ایف سی کے اہلکاروں کی عیادت کی

  • ایک دن قبل
مسلسل کمی کی بعد سونا آج پھر ہزاروں روپے مہنگا ، نئی قیمت کیا ہو گئی؟

مسلسل کمی کی بعد سونا آج پھر ہزاروں روپے مہنگا ، نئی قیمت کیا ہو گئی؟

  • ایک دن قبل
سابق کپتان کیویز کپتان باز کین ولیمسن نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا

سابق کپتان کیویز کپتان باز کین ولیمسن نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا

  • 20 گھنٹے قبل
وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد،ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد،ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ

  • 20 گھنٹے قبل
وزیراعظم شہبازشریف کی میثاقِ جمہوریت و معیشت کیلئے اپوزیشن کو پھر بات چیت کی دعوت

وزیراعظم شہبازشریف کی میثاقِ جمہوریت و معیشت کیلئے اپوزیشن کو پھر بات چیت کی دعوت

  • ایک گھنٹہ قبل
امریکا ایران امن معاہدے پر دستخط جی 7 اجلاس کی سائیڈ لائن پر متوقع,ایرانی ذرائع

امریکا ایران امن معاہدے پر دستخط جی 7 اجلاس کی سائیڈ لائن پر متوقع,ایرانی ذرائع

  • 16 منٹ قبل
آئندہ مالی سال کے  دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافہ، 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

آئندہ مالی سال کے دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافہ، 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

  • 20 گھنٹے قبل
Advertisement