Advertisement

بنگلہ دیش میں نیپا وائرس سے پہلی ہلاکت، بھارت میں بھی مزید کیسز سامنے آگئے

صورتحال کے پیش نظر ملائشیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور پاکستان نے اپنے ہوائی اڈوں پر درجہ حرارت کی اسکریننگ شروع کر دی ہے،رپورٹس

GNN Web Desk
شائع شدہ 6 months ago پر Feb 7th 2026, 6:50 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
بنگلہ دیش میں نیپا وائرس سے پہلی ہلاکت، بھارت میں بھی مزید کیسز سامنے آگئے

ویب ڈیسک: بنگلہ دیش کے شمالی علاقے میں ایک خاتون جنوری میں نیپاوائرس سے متاثر ہو کر جاں بحق ہو گئی،جب کہ ہمسایہ ملک بھارت میں بھی دو نِپاہ وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد ایشیا بھر کے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، خاتون کی عمر 40 سے 50 سال کے درمیان تھی اور 21 جنوری کو اس میں نِپاہ وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں، جن میں بخار، سر درد، زیادتی سے لعاب کا بہنا، الجھن اور دورے شامل تھے۔ خاتون ایک ہفتے بعد انتقال کر گئیں اور ان کی موت کے ایک دن بعد نِپاہ وائرس کی تصدیق ہوئی۔

رپورٹس کےمطابق مریضہ کا کوئی سفری ریکارڈ نہیں تھا لیکن انہوں نے خام کھجور کا رس استعمال کیا تھا، جو وائرس کی منتقلی کا ایک ممکنہ ذریعہ ہے۔

ادارہ صحت نے مزید بتایا کہ خاتون کے ساتھ رابطے میں آنے والے 35 افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے اور تمام کا وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا ہے،جب کہ اب تک کوئی مزید کیس سامنے نہیں آیا۔نیپا وائرس بنیادی طور پر چمگادڑوں سے آلودہ مصنوعات جیسے پھل کے ذریعے منتقل ہوتا ہے اور یہ 75 فیصد تک مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ وائرس انسانوں کے درمیان آسانی سے نہیں پھیلتا۔

اس صورتحال کے پیش نظر ملائشیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور پاکستان نے اپنے ہوائی اڈوں پر درجہ حرارت کی اسکریننگ شروع کر دی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اس بات کی وضاحت کی کہ عالمی سطح پر اس وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے اور فی الحال کسی بھی قسم کی سفری یا تجارتی پابندیوں کی سفارش نہیں کی جا رہی۔

واضح رہے کہ 2025 میں بنگلہ دیش میں نیپا وائرس کے چار تصدیق شدہ مہلک کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ اس وقت نیپا وائرس کے علاج یا ویکسین کے لیے کوئی منظور شدہ دوا دستیاب نہیں ہے۔

 

Advertisement
Advertisement