جغرافیائی حالات کی وجہ سے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، وزیر دفاع
سرداری نظام نے بلوچستان کے تمام وسائل کو لوٹا، دہشتگردوں کے پاس 20، 20 لاکھ روپے کی رائفل موجود ہے ، دہشتگرد امریکی اسلحہ استعمال کرتے ہیں،خواجہ آصف


اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے جغرافیائی حالات کی وجہ سے وہاں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں تیل سمیت مختلف اشیا کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں چمن بارڈر پر ایک بڑا احتجاج بھی ہوا۔ احتجاج کرنے والوں نے مطالبہ کیاکہ نیشنلسٹ تحریکوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔
خواجہ آصف نے واضح کیاکہ یہ لوگ نہ تو حقیقی سیاسی ہیں اور نہ قوم پرست، بلکہ بنیادی طور پر ان کی تحریک کاروباری نقصان کے ازالے اور روزانہ کی بنیاد پر تیل کی اسمگلنگ سے اربوں روپے کمانے کے لیے چلائی جا رہی ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہاکہ بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ عناصر ان اسمگلرز کو تحفظ فراہم کررہے ہیں اور بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریکوں کے پیچھے ایک گٹھ جوڑ موجود ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ کاروباری نقصانات کو ریکور کرنے کیلئے تحریک چلائی جا رہی ہے، اس کرپشن نیٹ ورک کے ذریعے ایران سے 40 روپے لیٹر تیل لے کر کراچی میں 200 روپے فی لیٹر بیچ رہے ہیں۔اسمگل تیل کو روکا گیا اس کی وجہ سے یہ لوگ امن و امان برباد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جو ہوا قوم کیلئے بہت بڑا المیہ ہے۔ دہشت گردی کو افغانستان سے ہوا دی جا رہی ہے، دہشتگردوں کے سربراہ افغانستان میں موجود ہیں، وہاں سے ان کو مدد ملتی ہے۔ ان دہشت گردوں کے پیچھے بھارت ہے، بلوچستان کے مخصوص جغرافیائی حالات کی وجہ سے اس علاقے میں بڑی تعداد میں فوجی اہلکاروں کی تعیناتی لازمی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سرداری نظام نے بلوچستان کے تمام وسائل کو لوٹا، دہشتگردوں کے پاس 20، 20 لاکھ روپے کی رائفل موجود ہے ، دہشتگرد امریکی اسلحہ استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے چوروں کی آرمی ہے جو اسمگلروں کو حفاظت فراہم کرتی ہے ، دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں سے سختی سے نمٹا جائے گا، خواتین اور بچوں پر حملہ کرنے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے

وفاقی حکومت گلگت بلتستان کیلئے 100 میگاواٹ شمسی بجلی منصوبے کے اخراجات برداشت کرے گی،وزیراعظم
- 7 گھنٹے قبل

لبنان پر اسرائیلی حملہ ایران امریکا معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا،عباس عراقچی کا انتباہ
- 7 گھنٹے قبل

ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا چکا ہے، ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے ،ٹرمپ
- ایک دن قبل

امریکا نہ ہوتا تواسرائیل کا وجود ہی نہ ہوتا ، حزب اللہ سے نمٹنے کی ذمہ داری شام کو سونپنی چاہئے،ٹرمپ
- 7 گھنٹے قبل

عالمی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر آمنہ انعام کی سالگرہ کی تقریب، فیملی سمیت شوبز شخصیات کی شرکت
- ایک دن قبل

روس کا ٹی یو-22 بمبار طیارہ ٹریننگ پرواز کے دوران گر کر تباہ،وزارت دفاع کی تصدیق
- ایک دن قبل

پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ فنڈاور مائیگرنٹ ریسورس سینٹرپاکستان کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط
- 3 گھنٹے قبل

اپوزیشن کے شور شرابے میں پنجاب کا بجٹ پیش، ملازمین کی تنخواہوں میں 7، پنشن میں 3.5 فیصد اضافہ تجویز
- 6 گھنٹے قبل

امن مذاکرات کی کامیابی پاکستان کی سفارتی فتح ہے، ہیڈ لائن ڈپلومیسی پر یقین نہیں رکھتے، سیکیورٹی ذرائع
- 7 گھنٹے قبل

اٹک میں سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی، 5 خطرناک دہشت گرد ہلاک،اسلحہ و گولہ بارودو دیگر مواد برآمد
- 7 گھنٹے قبل
طالبان رجیم نے افغان شہریوں کیلئے قید خانہ اور امن دشمنوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنا دیا،عالمی جریدہ
- 7 گھنٹے قبل
.webp&w=3840&q=75)
وزیراعظم سے مختلف اراکین قومی اسمبلی کی ملاقاتیں ،عالمی امن کے قیام کیلئے کامیاب کوششوں پر خراج تحسین
- 7 گھنٹے قبل



.jpg&w=3840&q=75)
.jpg&w=3840&q=75)


.jpg&w=3840&q=75)



