بھارتی حکام نے امریکی انتظامیہ کو بتایا کہ پاکستانی فوج سرحد پار دہشت گردی کی مبینہ حمایت کرتی ہے، اور آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس مدعو کرنا "غلط پیغام" دینے کے مترادف ہے


واشنگٹن/نئی دہلی/کوئٹہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ظہرانہ ملاقات پر بھارت نے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ نئی دہلی نے واشنگٹن کو سفارتی ذرائع سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رابطہ دو طرفہ تعلقات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق بھارتی حکام نے بتایا کہ اس ملاقات سے بھارت کو سیکیورٹی اور سفارتی سطح پر شدید تحفظات لاحق ہوئے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹرمپ انتظامیہ بھارت پر تجارتی محصولات لگانے پر غور کر رہی ہے۔
بھارتی حکام نے امریکی انتظامیہ کو بتایا کہ پاکستانی فوج سرحد پار دہشت گردی کی مبینہ حمایت کرتی ہے، اور آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس مدعو کرنا "غلط پیغام" دینے کے مترادف ہے۔
پاکستان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے اب تک اس حوالے سے کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا۔
یہ پہلا موقع تھا جب امریکی صدر نے کسی پاکستانی آرمی چیف کو بغیر کسی سویلین ہمراہ کے وائٹ ہاؤس مدعو کیا۔ اس ملاقات میں انسداد دہشت گردی تعاون اور دفاعی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس پر انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بھی باضابطہ بیان جاری کیا۔
ٹرمپ کی اس دعوت کے بعد بھارت میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دفتر اور قومی سلامتی کے مشیر نے 18 جون کو علیحدہ علیحدہ امریکی ہم منصبوں کو کال کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ملاقات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے پہلگام حملے کا حوالہ دیا، اور کہا کہ پاکستان کی قیادت، بالخصوص آرمی چیف، مذہبی انتہا پسندی سے متاثر ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملے میں سیاحوں کو ان کے مذہب کی تصدیق کے بعد قتل کیا گیا۔ ادھر پاکستان نے بھارت پر ہندوتوا پالیسی کے ذریعے اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے کا الزام عائد کیا۔
ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ امریکا بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتا ہے، اور یہ تعلقات ایک دوسرے پر مبنی نہیں بلکہ اپنی اپنی بنیادوں پر استوار ہیں۔
ملاقات کے بعد صرف سیکیورٹی نہیں بلکہ تجارتی محاذ پر بھی تناؤ بڑھا ہے۔ بھارت نے حالیہ ہفتوں میں عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں امریکا کے خلاف جوابی محصولات کی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ مودی نے ٹرمپ کی واشنگٹن دعوت کو بھی مسترد کر دیا، جو جی-7 اجلاس کے بعد دی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق بھارت اب چین سے تجارتی و سفارتی روابط کو ازسرِ نو ترتیب دے رہا ہے۔ وزیر خارجہ جے شنکر نے حال ہی میں بیجنگ کا دورہ کیا، جو 2020 کی سرحدی جھڑپ کے بعد پہلا دورہ تھا۔ ساتھ ہی چینی سرمایہ کاری پر عائد پابندیوں میں نرمی کے آثار بھی نظر آ رہے ہیں۔
انڈیا آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے خارجہ پالیسی ماہر ہارش پنت کے مطابق بھارت کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں کے باعث امریکا اور چین کے درمیان کوئی مفاہمت بھارت کے لیے خارجہ محاذ پر نئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف البانی (نیو یارک) کے پروفیسر کرسٹوفر کلاری کا کہنا ہے کہ بھارت کو چین-امریکا مفاہمت کے امکانات بھی نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق نئی دہلی اب چین کے اثرات کا مقابلہ ہمسایہ ممالک پر دباؤ بڑھا کر کرنا چاہتا ہے، نہ کہ براہ راست چین سے الجھ کر۔

خیبرپختونخوا کا 2122 ارب کا بجٹ پیش، تنخواہ و پنشن میں 7 فیصد اضافہ ،کم سے کم اجرت 45 ہزار مقرر
- 5 گھنٹے قبل

حکومت اور پی ٹی آئی کے رابطے پھر بحال، وزیر خزانہ کی اپوزیشن وفد سے ملاقات
- 4 گھنٹے قبل

معاہدے کی خلاف ورزی یا غیر ضروری مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت جواب دیا جائے گا،قالیباف
- 5 گھنٹے قبل

خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا،سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
- 5 گھنٹے قبل

مریم نواز کی ٹرانسپورٹ اور گڈز کرایوں میں کمی کیلئے متعلقہ محکموں کو فوری اقدامات کی ہدایت
- 4 گھنٹے قبل

ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے 2 ساتھی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
- 5 گھنٹے قبل

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان
- 6 گھنٹے قبل

طالبان رجیم کا کے پی اوربلوچستان میں مبینہ داعش کیمپس کو ڈرونز سے نشانہ بنانےکا پروپیگنڈا بے نقاب
- 7 گھنٹے قبل

لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا
- 5 گھنٹے قبل

معاہدے کا کمزور فریق واشنگٹن نہیں بلکہ تہران ہے، ایران کو کوئی مالی رعایت نہیں دیں گے،ٹرمپ
- 5 گھنٹے قبل

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سوشل میڈیا پر جاری کردیں
- 8 گھنٹے قبل
.jpeg&w=3840&q=75)
بلوچستان ٹیویٹا کے وفد کا پنجاب کے ہنر مندی نظام سے سیکھنے کیلئے پی ایس ڈی ایف کا دورہ
- 2 گھنٹے قبل





