Advertisement
علاقائی

لاہور کی گلیوں سے اُبھرتی امن،ثقافت اور امید کی نئی کہانی ،رنگ برنگی امن پتلیاں اور دلچسپ کردار

“امن پتلیاں” ایک ثقافتی اور سماجی منصوبہ ہے جس کا مقصد فن اور کہانی گوئی کے ذریعے محبت۔ برداشت۔ سماجی ہم آہنگی اور امن کے پیغام کو عام کرنا ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 hours ago پر May 17th 2026, 4:02 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
لاہور کی گلیوں سے اُبھرتی امن،ثقافت اور امید کی نئی کہانی ،رنگ برنگی امن پتلیاں اور  دلچسپ کردار

لاہور:( ڈاکٹر سعدیہ خالد)اندرونِ لاہور کی تنگ گلیوں میں ایک وقت تھا جب پتلی تماشے کی آوازیں بچوں اور بڑوں کو اپنی جانب کھینچ لیا کرتی تھیں۔ رنگ برنگی پتلیاں۔ دلچسپ کردار۔ اور کہانیوں میں چھپے سماجی پیغام اس روایت کو صرف تفریح نہیں بلکہ ثقافت اور شعور کا حصہ بناتے تھے۔ وقت کے ساتھ یہ فن آہستہ آہستہ خاموش ہوتا گیا۔ مگر اب لاہور کی انہی تاریخی گلیوں میں ایک نئی کوشش اس روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کوشش کا نام ہے “امن پتلیاں”۔

“امن پتلیاں” ایک ثقافتی اور سماجی منصوبہ ہے جس کا مقصد فن اور کہانی گوئی کے ذریعے محبت۔ برداشت۔ سماجی ہم آہنگی اور امن کے پیغام کو عام کرنا ہے۔ اس منصوبے کی قیادت ڈاکٹر سعدیہ خالد کر رہی ہیں جبکہ اس کے تخلیقی وژن میں خواجہ دانیال کا کردار نمایاں ہے۔

ڈاکٹر سعدیہ خالد گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ۔ سماجی ترقی اور پائیدار امن کے شعبوں میں سرگرم ہیں۔ وہ ہزاروں نوجوانوں اور کمیونٹی لیڈرز کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ معاشرتی تبدیلی صرف تقاریر اور پالیسیوں سے ممکن نہیں بلکہ آرٹ۔ ثقافت اور کہانیوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں تک پہنچ کر بھی لائی جا سکتی ہے۔

اسی سوچ کے تحت “امن پتلیاں” کا آغاز کیا گیا۔ یہ منصوبہ روایتی پتلی تماشے کو جدید سماجی موضوعات کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اندرون لاہور کے تاریخی مقامات۔ دہلی گیٹ۔ موری گیٹ۔ لوہاری گیٹ۔ موچی گیٹ اور بھاٹی گیٹ میں پیش کیے جانے والے اسٹریٹ شوز نے شہریوں کی توجہ حاصل کی۔

یہ شوز صرف تفریح فراہم نہیں کرتے بلکہ ان کے ذریعے سماجی رویوں۔ برداشت۔ نوجوانوں کے مسائل اور معاشرتی تقسیم جیسے موضوعات کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔ منصوبے کے کردار بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

“صدائے امن” محبت اور اتحاد کی علامت ہے۔ “روشنی” امید کی نمائندگی کرتی ہے۔ “امر” معاشرتی تعصبات پر سوال اٹھاتا ہے۔ جبکہ “صِفاک”۔ “جلال” اور “تکبر” منفی رویوں اور سماجی تقسیم کی علامت ہیں۔

اس منصوبے کی ایک اہم خاصیت یہ بھی ہے کہ اس کے کردار۔ مکالمے اور پتلیاں مقامی ٹیم نے خود تخلیق کیں۔ معروف پپٹ ماسٹر نوید احمد نے اس منصوبے کی تربیت اور تخلیقی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ گزشتہ 30 برسوں سے پتلی سازی اور کہانی گوئی سے وابستہ ہیں اور پاکستان میں اس فن کے چند نمایاں ناموں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

پروجیکٹ کی اسکرپٹ رائٹنگ۔ ہدایت کاری اور تخلیقی برانڈنگ پر خواجہ دانیال نے کام کیا۔ ان کی تخلیقی سوچ نے “امن پتلیاں” کو ایک منفرد شناخت دی۔
یہ منصوبہ HIVE Pakistan Community Innovation Lab کے اشتراک سے شروع کیا گیا۔ اس کا مقصد صرف ایک قدیم فن کو زندہ کرنا نہیں بلکہ نوجوان نسل کو اپنی ثقافت سے جوڑنا اور مقامی فنکاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔

درپیش چیلنجز

“امن پتلیاں” جیسے ثقافتی منصوبے کو کئی چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ پاکستان میں روایتی فنون میں عوامی دلچسپی وقت کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ پتلی تماشے سے وابستہ فنکار محدود مواقع اور وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی کمی بھی اس فن کی بحالی میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ نوجوان نسل کا اپنی ثقافتی شناخت اور روایتی فنون سے دور ہونا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ جدید ڈیجیٹل تفریح کے دور میں روایتی کہانی گوئی اور پتلی تماشے جیسے فنون آہستہ آہستہ پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

تاہم ان تمام مشکلات کے باوجود “امن پتلیاں” کی ٹیم نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ ان کے نزدیک یہی وقت ہے کہ ثقافت اور فن کو دوبارہ نوجوان نسل کے قریب لایا جائے۔

امن پتلیاں کے مقاصد

“امن پتلیاں” صرف ایک ثقافتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک سماجی تحریک کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد فن اور کہانی گوئی کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی اور امن کے پیغام کو فروغ دینا ہے۔

اس منصوبے کے تحت نوجوانوں اور تخلیقی طلبہ کو پتلی تماشے کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ نئی نسل اس فن کو سیکھ سکے اور مستقبل میں اسے آگے بڑھا سکے۔

منصوبے کے تحت اندرونِ لاہور کی تاریخی گلیوں میں سماجی مسائل پر مبنی اسٹریٹ شوز بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان شوز کے ذریعے برداشت۔ محبت۔ سماجی رویوں اور کمیونٹی مسائل جیسے موضوعات پر مکالمے کو فروغ دیا جاتا ہے۔

“امن پتلیاں” مقامی کمیونٹیز کی ان آوازوں کو بھی سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہے جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ منصوبے کا ایک اہم مقصد پاکستان میں پتلی تماشے کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار نظام تشکیل دینا بھی ہے تاکہ یہ روایت آنے والی نسلوں تک محفوظ رہ سکے۔

دنیا کے کئی ممالک آج بھی پتلی تماشے کو اپنی ثقافتی شناخت کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔ انڈونیشیا کا “وایانگ کُلیت” اور جاپان کا “بُنراکو” اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ مگر پاکستان میں یہ فن جدید تفریحی ذرائع کے باعث بتدریج زوال کا شکار ہو گیا۔

“امن پتلیاں” اسی روایت کو نئی روح دینے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ منصوبے کے تحت نوجوان فنکاروں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ مقامی کمیونٹیز کے ساتھ مل کر اسٹریٹ شوز منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اور سماجی مسائل پر مکالمے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

یہ منصوبہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ فن صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشروں کو جوڑنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ لاہور کی قدیم گلیوں میں دوبارہ گونجتی پتلی تماشے کی آوازیں شاید اسی امید کی علامت ہیں کہ ثقافت۔ محبت اور امن کی یہ روایت ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

Advertisement
پاکستان میں طبی اور ادویاتی غلطیوں کے باعث ہر سال  ہزاروں  مریض  جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں،ماہرین

پاکستان میں طبی اور ادویاتی غلطیوں کے باعث ہر سال ہزاروں مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں،ماہرین

  • 5 گھنٹے قبل
لاہور : نئی فلم میرا لیاری کی اسکریننگ تقریب کا انعقاد ،فلم کی کاسٹ اور دیگر شوبز شخصیات کی بھرپور شرکت

لاہور : نئی فلم میرا لیاری کی اسکریننگ تقریب کا انعقاد ،فلم کی کاسٹ اور دیگر شوبز شخصیات کی بھرپور شرکت

  • 4 گھنٹے قبل
ملک میں نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ آنے میں تاخیر ہو سکتی ہے، گورنر اسٹیٹ بینک 

ملک میں نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ آنے میں تاخیر ہو سکتی ہے، گورنر اسٹیٹ بینک 

  • 2 دن قبل
امریکا نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو اہم شراکت دار قرار دیدیا

امریکا نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو اہم شراکت دار قرار دیدیا

  • 5 گھنٹے قبل
امریکی تحویل میں 11پاکستانی اور20 ایرانی شہریوں کی واپسی میں کامیابی مل گئی، اسحاق ڈار

امریکی تحویل میں 11پاکستانی اور20 ایرانی شہریوں کی واپسی میں کامیابی مل گئی، اسحاق ڈار

  • 2 دن قبل
پنجاب حکومت نےصوبے بھر میں مارکیٹس کے اوقات کار میں نرمی کر دی

پنجاب حکومت نےصوبے بھر میں مارکیٹس کے اوقات کار میں نرمی کر دی

  • 2 دن قبل
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات ناکام نہیں ہوئے،ایران کے کسی معاملے کا عسکری حل نہیں ،عراقچی

پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات ناکام نہیں ہوئے،ایران کے کسی معاملے کا عسکری حل نہیں ،عراقچی

  • 2 دن قبل
وزیراعظم کا ٹیلی کمیونیکیشن شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری اور آمدن میں خاطر خواہ اضافے پر اطمینان کا اظہار

وزیراعظم کا ٹیلی کمیونیکیشن شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری اور آمدن میں خاطر خواہ اضافے پر اطمینان کا اظہار

  • 3 گھنٹے قبل
افغان تاجرطالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور،ہزاروں ٹن اجناس خراب

افغان تاجرطالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور،ہزاروں ٹن اجناس خراب

  • 5 گھنٹے قبل
حکومت ملک بھر میں ڈیجیٹل رسائی اور رابطہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں ہے، صدر مملکت

حکومت ملک بھر میں ڈیجیٹل رسائی اور رابطہ کاری کے فروغ کے لیے کوشاں ہے، صدر مملکت

  • 4 گھنٹے قبل
بھارتی آرمی چیف کی ایٹمی ہمسایہ ملک کو مٹانے کی دھمکی،خاتمہ یقیناً دو طرفہ ہوگا،پاک فوج کا جواب

بھارتی آرمی چیف کی ایٹمی ہمسایہ ملک کو مٹانے کی دھمکی،خاتمہ یقیناً دو طرفہ ہوگا،پاک فوج کا جواب

  • 5 گھنٹے قبل
پنکی کا برانڈ نیم ہی اس کا پھندا بنے گا،سہولت کاری میں ملوث دیگر کوبھی پکڑا جا رہا ہے،ایڈیشنل آئی جی سندھ

پنکی کا برانڈ نیم ہی اس کا پھندا بنے گا،سہولت کاری میں ملوث دیگر کوبھی پکڑا جا رہا ہے،ایڈیشنل آئی جی سندھ

  • 2 دن قبل
Advertisement