Advertisement
علاقائی

روٹی تو مل  ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟

40ہزار بہت کم ہیں ، ایک خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ آمدن درکار  ہوتی ہے مگر مزدور اور  عام ورکر حساب نہیں لگاتا، وہ  بس دن گنتا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 months ago پر Apr 30th 2026, 9:55 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
روٹی تو مل  ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟

روٹی تو مل  ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
رائٹر: اشفاق ریاض

رات کے آخری پہر شہر آہستہ آہستہ اپنی آوازیں سمیٹ رہا تھا مگر ایک چوک ایسا بھی تھا جہاں دن ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ ایک مزدور سیمنٹ کی بوریوں کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں مگر ہاتھ جیسے ابھی بھی کام کے عادی ہوں، ہلکے ہلکے حرکت میں تھے۔ میں کچھ دیر کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ دل میں خیال آیا کہ یہ آدمی شاید سو بھی جائے تو اس کے خواب میں بھی مزدوری ہی آئے گی۔

میں نے قریب جا کر پوچھ لیا، کتنی مزدوری مل جاتی ہے؟اس نے آنکھیں کھولیں، ہلکا سا مسکرایا اور بولا، بس جی۔۔ اتنی کہ اگلے دن پھر  کام پرآ سکیں۔

میں سوچ میں پڑ گیا کہ ایک بار  پھر یکم  مئی  ہماری دہلیز پر  ہے،وہ دن جسے ہم یومِ مزدور کہتے ہیں۔ سرکاری سطح پر چھٹی، چند تقاریر، کچھ بیانات اور حسبِ روایت مزدور کی عظمت پر روشنی ڈالنے کی ایک سالانہ مشق۔ اس کے بعد اگلے دن وہی معمول۔ہم بھی وہیں اور مزدور بھی وہیں کا وہیں رہ جائے گا۔

اس دن کی تاریخ بھی کچھ ایسی ہی ہے،1886میں شکاگو کے مزدوروں نے جب لمبی لمبی شفٹوں سے تنگ آکر آٹھ گھنٹے کام کا مطالبہ کیا تو یہ کوئی انقلابی نعرہ  اور فلسفہ نہیں تھا، بس ایک سیدھی سی بات تھی کہ چوبیس گھنٹوں میں سے کچھ وقت انسان کے اپنے لیے بھی ہونا چاہیے مگر اس سادگی کا جواب گولیوں اور پھانسیوں سے دیا گیا۔ یوں آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے آرام اور آٹھ گھنٹے زندگی کا نعرہ تاریخ میں ثبت ہو گیا۔ اس کے بعد دنیا کے کئی حصوں میں مزدوروں نے اپنی اپنی جنگیں لڑیں۔ کہیں روٹی کے لیے، کہیں عزت کے لیے۔

پھر20ویں صدی کے اوائل میں امریکہ میں خواتین مزدوروں کی تحریک کے دوران ہمیں صرف روٹی نہیں، گلاب بھی چاہیے کا نعرہ بھی بلند کیا گیا۔ یعنی روزگار کیساتھ کیساتھ  وقار، سکون اور ایک نارمل زندگی بھی چاہیے۔

آج اگر دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کو دیکھیں تو وہاں مزدور کی تعریف اور حالات بدل چکے ہیں، وہ اب صرف ایک مزدور نہیں بلکہ ایک باعزت شہری بھی   ہے۔ اس کے پاس صحت کی سہولت ہے، سوشل سیکیورٹی ہے اور بڑھاپے میں گزارے کا کوئی بندوبست بھی ہے۔ کم از کم اجرت اتنی ہے کہ وہ صرف زندہ نہ رہے بلکہ نارمل زندگی گزار سکے۔ اسے معلوم ہے کہ اگر وہ بیمار پڑ گیا تو اس کا گھر بھی اس کے ساتھ بیمار نہیں ہو جائے گا۔

اب ذرا  پاکستان کی طرف آتے ہیں، یہاں کم از کم اجرت کاغذ پر لگ بھگ 40ہزار روپے  مقررہے۔سرکاری کاغذ بڑا مضبوط ہوتا ہے اس پر لکھی ہوئی باتیں بھی مضبوط  اور اچھی ہی لگتی ہیں مگر زمین پر اترتے ہی یہ مضبوطی کچھ کمزور پڑ جاتی ہے۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملک بھر میں مزدوروں کی  ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو اس مقررہ اجرت  سے کم پر کام کر رہی ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جن کا کوئی ریکارڈ نہیں، کوئی معاہدہ نہیں ہے اور المیہ یہ ہے کہ  کوئی پوچھنے والا بھی  نہیں ہے۔

کہتے ہیں کہ ملک کی تقریباً 70فیصد لیبر فورس غیر رسمی شعبے میں ہے۔یعنی دیہاڑی دار مزدور، چھوٹے دکاندار ، ریڑھی والے،کھیتوں میں کام کرنے والے محنت کش ،گھریلو صنعتوں اورگھروں میں کام کرنے والے افراد، یہ  ساری لیبر فورس  قانون کی نظر میں ہے بھی اور نہیں بھی۔

آپ کسی بھی مزدور سے اگر پوچھیں کہ گزارہ ہو جاتا ہے تو وہ عموماً یہی کہے گا کہ ہو ہی جاتا ہے۔یہ ۔۔ہو ہی جاتا ہے۔۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا معاشی فلسفہ ہے۔ اس گزارہ  ہونے میں رشتے داروں اور دوستوں سے لیا گیا قرض در قرض بھی شامل ہے،چھوٹے بڑے سمجھوتے بھی اور  کہیں نا کہیں خاموشی بھی شامل ہے،اس گزارہ ہونے میں کبھی صبح کا ناشتہ تو کبھی رات کا کھانا مس کرنا بھی شامل ہے۔

معاشی ماہرین  کا ماننا ہےکہ40ہزار بہت کم ہیں ، ایک خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ آمدن درکار  ہوتی ہے مگر مزدور اور  عام ورکر حساب نہیں لگاتا، وہ  بس دن گنتا ہے۔

مسئلہ یہاں یہ بھی ہے کہ حکومت ہو یا ہمارا معاشرہ ، مزدور کو عزت  ضرور دیتے ہیں،مگر جب  پوری تنخواہ دینے  کی بات آتی ہے تو  ذرا احتیاط کرتے ہیں ہم اس کی محنت کو سراہتے ہیں مگر اس کی قیمت طے کرتے ہوئے ہمیں اچانک معاشی مشکلات یاد آ جاتی ہیں۔اکثر بڑے کارپوریٹ ادارے سال کے آخر میں اپنے منافع کے اعداد و شمار جاری کرتے ہیں اور انہی اداروں کے نیچے کام کرنے والا مزدور بھی اکثر مہینے کے آخر میں اپنے خرچ کے اعداد و شمار جوڑتا رہ جاتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ ایک کے اعداد بڑھتے ہیں اور دوسرے کے کم پڑ جاتے ہیں۔

حکومت کا کردار اس سارے قصے میں بنیادی ہے۔ قوانین موجود ہیں، اعلانات بھی ہوتے ہیں مگر عملدرآمد  میں کہیں سستی تو کہیں نااہلی دکھا دی جاتی ہے، کم از کم اجرت مقرر کرنا ایک قدم ہے، اسے دلوانا دوسرا اور ہمارے ہاں اکثر پہلا قدم  تواٹھا لیا جاتا ہے، مگردوسرا رہ جاتا ہے۔ 

پھر ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو خود کو مزدور کہلوانے سے ہچکچاتا ہے حالانکہ وہ بھی اسی صف میں کھڑا ہے۔ یہ قلم کے مزدور ہیں یعنی صحافی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کے مسائل لکھتے ہیں مگر اپنے مسائل  لکھتے ان کا قلم لرز جاتا ہے، کئی میڈیا اداروں میں تنخواہیں تاخیر کا شکار رہتی ہیں، نوکری کا کوئی خاص تحفظ نہیں اور اوپر سے دباؤ الگ ، فرق صرف یہ ہے کہ ان کے ہاتھوں پر سیمنٹ نہیں لگا ہوتا مگر تھکن وہی ہوتی ہے۔

یہاں سوال شاید یہ نہیں کہ مزدور کے مسائل کیا  کیاہیں، سوال یہ ہے کہ ہم انہیں کس حد تک سنجیدہ لیتے ہیں؟ اگر کم از کم اجرت طے ہے مگر دی نہیں جا رہی، اگر قانون موجود ہے مگر عمل  نہیں ہو رہا، اگر مزدور کام کر رہا ہے مگر جی نہیں رہا، تو پھر مسئلہ صرف معیشت کا نہیں ہے بلکہ ہماری ترجیحات کا بھی ہے۔

میں نے واپس مڑ کر اسی مزدور کو دیکھا۔ وہ اب بھی وہیں بیٹھا تھا، شاید اگلے دن کے لیے خود کو تیار کر رہا تھا۔ یکم مئی اس کے لیے شاید ایک عام دن ہی ہوگا، یا زیادہ سے زیادہ ایک چھٹی جس میں وہ کام نہ کر کے بھی نقصان اٹھائے گا۔

 تحریر اشفاق ریاض

نوٹ:کالم نگار عرصہ دراز سے شعبہ صحافت سے منسلک ہے یہ تحریر ان کی ذاتی رائے اور مشاہدات پر مبنی ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

Advertisement
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق

ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق

  • 3 دن قبل
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان

بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان

  • 4 دن قبل
پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے نئی لگنے والی شرط کیا ہے؟

پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے نئی لگنے والی شرط کیا ہے؟

  • 15 گھنٹے قبل
لاہور: غازی آباد تھانے میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی، 78 اہلکار معطل

لاہور: غازی آباد تھانے میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی، 78 اہلکار معطل

  • 9 گھنٹے قبل
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان

پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان

  • 3 دن قبل
عبداللہ طاہر قتل کیس: مرکزی مبینہ شوٹر کی شناخت، 6 سہولت کار گرفتار

عبداللہ طاہر قتل کیس: مرکزی مبینہ شوٹر کی شناخت، 6 سہولت کار گرفتار

  • 15 گھنٹے قبل
خاتون فٹبالر سمندر میں اچانک ڈوب گئ، کہاں پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی؟

خاتون فٹبالر سمندر میں اچانک ڈوب گئ، کہاں پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی؟

  • 14 گھنٹے قبل
سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی

  • 3 دن قبل
آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ میں معلوماتی و تربیتی سیشنز

آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ میں معلوماتی و تربیتی سیشنز

  • 16 گھنٹے قبل
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر

پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر

  • 4 دن قبل
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے

طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے

  • 4 دن قبل
پولیس کا جنون، لڑکی نے خودکشی کیوں کی؟

پولیس کا جنون، لڑکی نے خودکشی کیوں کی؟

  • 16 گھنٹے قبل
Advertisement