Advertisement

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کو پناہ دینے والے تمام ہوٹلز کو جنگی اہداف تصور کیا جائے گا، ایران

خلیجی تعاون کونسل کے ممالک میں امریکی فوجی مقامی آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں،عباس عراقچی

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 months ago پر Mar 27th 2026, 3:47 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کو پناہ دینے والے تمام ہوٹلز کو جنگی اہداف تصور کیا جائے گا، ایران

تہران :ایران نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام ہوٹلز جہاں امریکی فوجیوں نے قیام کیا یا آئندہ کریں گے، انہیں جنگی اہداف تصور کیا جائے گا۔ 

تفصیلات کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تمام امریکی فوجی کسی ہوٹل میں منتقل ہو جاتے ہیں تو ہمارے نقطہ نظر سے وہ ہوٹل امریکی تنصیب بن جاتا ہے۔

بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ کیا ہم صرف خاموش بیٹھے رہیں اور امریکی ہمیں نشانہ بناتے رہیں؟ جب ہم جواب دیتے ہیں تو جہاں بھی وہ موجود ہوں، ہمیں حملہ کرنا ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جمعرات کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا تھا کہ خلیجی تعاون کونسل کے ممالک میں امریکی فوجی مقامی آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

عباس عراقچی نےاپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس جنگ کے آغاز سے ہی امریکی فوجی جی سی سی کے فوجی اڈوں سے نکل کر ہوٹلوں اور دفاتر میں چھپ گئے ہیں۔

ایکس پر جاری کر دہ بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے ہوٹلوں سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی فوجیوں کو کمرے فراہم نہ کریں۔
علاوہ ازاں ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق آئی آر جی سی کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو سختی سے مشورہ دیتے

ہیں کہ جہاں امریکی افواج موجود ہیں وہاں سے فوری نکل جائیں تاکہ آپ نقصان سے محفوظ رہیں،بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران پر لازم ہے کہ وہ امریکی افواج کو جہاں کہیں بھی پائے نشانہ بنائے۔

Advertisement
Advertisement