امریکا کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات چیت جاری نہیں ہے،ایران نے ٹرمپ کا بیان مسترد کر دیا
جنگ جاری ہے ، دشمن کو ایک اور شکست کا سامنا ہوا ہے ،ٹرمپ اور امریکا ایک بار پھر شکست کھا چکے ہیں،ابراہیم رضائی


تہران:ایران نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ امریکا کہ ساتھ کسی قسم کی کوئی بھی بات چیت نہیں ہو رہی اور نہ ہی تہران اور واشنگٹن کے درمیان نہ براہ راست اور نہ ہی کسی ثالث ذریعے کے ذریعے کوئی رابطہ موجود ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہےکہ امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی رابطے نہیں ہوئے، ٹرمپ کے حالیہ بیان کا مقصد توانائی کی قیمتوں میں کمی لانا اور اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت لینا ہے، کشیدگی کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات موجود ہیں۔
جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا کو خود اس معاملے میں بات چیت کرنی چاہیے کیوں کہ یہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی، ہوسکتا ہے ٹرمپ کچھ بڑا کرنے سے پہلے ٹائم خرید رہا ہو، اور یہ سب دھوکا ہو۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے سخت ردعمل اور دھمکی کے بعد ہی امریکی صدر نے بات چیت کا بیان دیا جب کہ ایک ایرانی عہدیدار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران کی وارننگ کے بعد ٹرمپ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے۔
جبکہ ایران کی قومی سلامتی کے ترجمان ابراہیم رضائی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ جنگ جاری ہے ، دشمن کو ایک اور شکست کا سامنا ہوا ہے ،ٹرمپ اور امریکا ایک بار پھر شکست کھا چکے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی صدر کے مذاکرات سے متعلق دعوے حقائق کے برعکس ہیں،کیونکہ دو روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان دیا تھا کہ ایران میں ایسا کوئی لیڈر موجود نہیں جس سے بات چیت کی جا سکے تاہم اس کے بعد انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ کیا۔
خیال رہے کہ آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 2 دنوں کے دوران نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل اور حتمی حل تلاش کرنا ہے۔
بیان میں صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات پورے ہفتے جاری رہیں گے، ایران پر حملے ملتوی رہنے کا انحصار ایران کے ساتھ جاری بات چیت کی کامیابی پر ہوگا۔
تاہم امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی پاور پلانٹس پر حملے ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آگئی، ٹرمپ کے اعلان کے باعث تجارتی اوقات سے قبل ہی تیل کی قیمتیں تیزی سے گرگئیں۔
ٹرمپ کے اعلان کے بعد برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل سے 94 ڈالر آئی تاہم دوبارہ 97 ڈالر سے اوپر چلی گئی۔ اس وقت برینٹ کروڈ 100 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی 10 فیصد تک کم ہونے کے بعد 88.80 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔

سونے کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 2 گھنٹے قبل

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- 4 دن قبل
خاتون فٹبالر سمندر میں اچانک ڈوب گئ، کہاں پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی؟
- ایک دن قبل
عبداللہ طاہر قتل کیس: مرکزی مبینہ شوٹر کی شناخت، 6 سہولت کار گرفتار
- ایک دن قبل

لاہور: غازی آباد تھانے میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی، 78 اہلکار معطل
- 20 گھنٹے قبل
تیسرے ہاکی ٹیسٹ میں پاکستان کی جنوبی کوریا کو 3-4 سے شکست
- 2 گھنٹے قبل
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- 3 دن قبل
آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ میں معلوماتی و تربیتی سیشنز
- ایک دن قبل
پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے نئی لگنے والی شرط کیا ہے؟
- ایک دن قبل
پولیس کا جنون، لڑکی نے خودکشی کیوں کی؟
- ایک دن قبل
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- 4 دن قبل
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- 4 دن قبل


