Advertisement

اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کی منظوری دے دی،شہریوں کو انخلا کا حکم 

غزہ کے تمام علاقوں سے حماس کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے غزہ کی آبادی کو آزادی دلانا چاہتے ہیں،نیتن یاہو

GNN Web Desk
شائع شدہ 10 months ago پر Aug 8th 2025, 9:58 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کی منظوری دے دی،شہریوں کو انخلا کا حکم 

تل ابیب:اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے شہریوں کو انخلا کا حکم دے دیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی فوج نے غزہ کے شمالی حصے میں رہائشیوں کو جبری انخلا کا حکم دے دیا ہے جس سے فوجی آپریشن میں وسعت کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیتن یاہو نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل پورے غزہ پر فوجی کنٹرول چاہتا ہے تاکہ حماس کو ختم کیا جا سکے، ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "اسرائیلی فوج غزہ شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کی تیاری کرے گی، جبکہ جنگی علاقوں سے باہر موجود شہریوں کو انسانی امداد فراہم کی جائے گی۔"

غزہ شہر، جو شمالی پٹی میں واقع ہے، سب سے بڑا اور اہم ترین شہری علاقہ ہے۔ اسرائیلی کابینہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی متبادل تجویز سے نہ تو حماس کو شکست دی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس لایا جا سکتا ہے۔

سکیورٹی کابینہ کے اجلاس سے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ہم غزہ کے تمام علاقوں سے حماس کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے غزہ کی آبادی کو آزادی دلانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس پر تسلط نہیں چاہتے، ہم اسے عرب افواج کے حوالے کرنا چاہتے ہیں جو ہمیں دھمکی دیئے بغیر اس پر صحیح طریقے سے حکومت کریں گی اور غزہ والوں کو اچھی زندگی دیں گی۔

دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے نیتن یاہو کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ غزہ میں نسل کشی اور جبری بے دخلی کا منصوبہ بنا رہے ہیں، اور اپنے ذاتی مفادات کے لیے اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔

 حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کا جواب بھرپور مزاحمت سے دیا جائے گا۔

 

Advertisement
لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا

لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا

  • 21 hours ago
مریم نواز کی ٹرانسپورٹ اور گڈز کرایوں میں کمی کیلئے متعلقہ محکموں کو فوری اقدامات کی ہدایت

مریم نواز کی ٹرانسپورٹ اور گڈز کرایوں میں کمی کیلئے متعلقہ محکموں کو فوری اقدامات کی ہدایت

  • 19 hours ago
امن مذاکرات پر مشاورت،وزیر داخلہ محسن نقوی ایران پہنچ گئے

امن مذاکرات پر مشاورت،وزیر داخلہ محسن نقوی ایران پہنچ گئے

  • a few seconds ago
ایک روز کی ریکارڈسستا ہونے کے بعد سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی

ایک روز کی ریکارڈسستا ہونے کے بعد سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی

  • 13 minutes ago
 کالعدم ایکشن کمیٹی عوامی حقوق کی آڑ میں کسی اور ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،کشمیر ی قیادت

 کالعدم ایکشن کمیٹی عوامی حقوق کی آڑ میں کسی اور ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،کشمیر ی قیادت

  • 24 minutes ago
اقوام متحدہ میں افغان مندوب نے طالبان رجیم کے حالیہ اقدامات پر سوالات اٹھا دیے

اقوام متحدہ میں افغان مندوب نے طالبان رجیم کے حالیہ اقدامات پر سوالات اٹھا دیے

  • 31 minutes ago
بنوں کے نیم قبائلی علاقے میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے، 7 افراد جاں بحق،متعدد زخمی

بنوں کے نیم قبائلی علاقے میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے، 7 افراد جاں بحق،متعدد زخمی

  • 35 minutes ago
بلوچستان ٹیویٹا کے وفد کا پنجاب کے ہنر مندی نظام سے سیکھنے کیلئے پی ایس ڈی ایف کا دورہ

بلوچستان ٹیویٹا کے وفد کا پنجاب کے ہنر مندی نظام سے سیکھنے کیلئے پی ایس ڈی ایف کا دورہ

  • 17 hours ago
معاہدے کا کمزور فریق واشنگٹن نہیں بلکہ تہران ہے، ایران کو کوئی مالی رعایت نہیں دیں گے،ٹرمپ

معاہدے کا کمزور فریق واشنگٹن نہیں بلکہ تہران ہے، ایران کو کوئی مالی رعایت نہیں دیں گے،ٹرمپ

  • 20 hours ago
حکومت اور پی ٹی آئی کے رابطے پھر بحال، وزیر خزانہ کی اپوزیشن وفد سے ملاقات

حکومت اور پی ٹی آئی کے رابطے پھر بحال، وزیر خزانہ کی اپوزیشن وفد سے ملاقات

  • 19 hours ago
 معاہدے کی خلاف ورزی یا غیر ضروری مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت جواب دیا جائے گا،قالیباف

 معاہدے کی خلاف ورزی یا غیر ضروری مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت جواب دیا جائے گا،قالیباف

  • 20 hours ago
خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا،سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا،سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

  • 20 hours ago
Advertisement