تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ میں 19سے زائد مقامات پر امریکا کے فوجی اڈے قائم ہیں جن میں تقریباً 40 سے 50 ہزار فوجی اہلکار تعینات ہیں


ایران اسرائیل جنگ میں امریکی شمولیت کےخدشے اور صدر ٹرمپ کی ایران سے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنےکی دھمکی کے بعد کیا مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا ؟
ایران نے پہلے ہی خبردار کر دیا ہے کہ کسی بھی تیسرے ملک کے ایران پر حملہ کے سنگین نتائج ہوں گے اور اگر امریکا ایران اسرائیل جنگ میں شامل ہوتا ہے تو امریکا خطے میں کہا کہا سے ممکنہ حملہ کر سکتا ہے۔
امریکا نے مشرق وسطیٰ میں گزشتہ کئی دہائیوں سے مستقل فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ میں 19سے زائد مقامات پر امریکا کے فوجی اڈے قائم ہیں جن میں تقریباً 40 سے 50 ہزار فوجی اہلکار تعینات ہیں ، ان میں سے 8 مستقل فوجی اڈے ہیں۔
امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق، امریکی مستقل اڈوں میں بحرین، مصر، عراق، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، باقی اڈے وقتی نوعیت ، یا اسٹریٹجک مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
امریکی نمایاں فوجی اڈوں میں سے ایک قطر کی العدید ائیربیس ہے جہاں مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا امریکی فوجی اڈہ 1996 میں قائم کیا گیا، یہاں تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، یہ اڈہ سینٹ کام (CENTCOM) کا فارورڈ ہیڈکوارٹر ہے اور عراق، شام اور افغانستان میں امریکی کارروائیوں کا مرکزی مرکز رہا ہے۔
دوسری اہم نیول سپورٹ ایکٹیویٹی بحرین میں قائم ہے۔ امریکی بحریہ کایہ اڈہ جو سابقہ برطانوی اڈے ایچ ایم ایس جفیئر کی جگہ قائم کیا گیا، یہاں تقریباً 9 ہزار دفاعی اہلکار تعینات ہیں اور یہ US Navy’s Fifth Fleet کا گھر ہے۔
کویت سٹی سے 55 کلومیٹر جنوب مشرق میں کیمپ عریفجان اڈہ 1999 میں تعمیر کیا گیا۔ یہ امریکی فوج کی لاجسٹکس، سپلائی اور کمانڈ کا اہم مرکز ہے۔
متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ائیربیس ایک اسٹریٹجک فضائی اڈہ ہے ، جو خفیہ معلومات جمع کرنے اور F-22 ریپٹر اسٹیلتھ فائٹرز سمیت جدید طیاروں اور ڈرونز کی پروازوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ شمالی عراق اور شام میں امریکی فضائی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والا اڈہ اربیل ائیربیس ہے ، جہاں امریکی فوجی کرد اور عراقی فورسز کی تربیت اور مشاورت بھی کرتے ہیں۔
امریکا نے پہلی بار 1958 میں لبنان بحران کے دوران فوجی دستے بیروت بھیجے تھے، جب وہاں 15ہزار امریکی میرینز اور آرمی اہلکار تعینات کیے گئے۔

فاسٹ باؤلر نسیم شاہ غیر معینہ مدت کیلئے پی ایس ایل سے باہر،مگر کیوں ؟
- 12 hours ago

لبنان پر اسرائیلی جارحیت جاری، حالیہ فضائی حملوں میں مزید 11شہری شہید
- 10 hours ago

زرمبادلہ ذخائر کی بچت کیلئے ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا،شہباز شریف
- 9 hours ago

شہباز شریف سے حنیف عباسی کی ملاقات، ریلویز کی مجموعی کارکردگی، اصلاحات تفصیلی تبادلہ خیال
- 12 hours ago

ایران نے پاکستان کےمجوزہ ’’اسلام آباداکارڈ‘‘ پر اپنے ردعمل سے آگاہ کردیا
- 6 hours ago

وزیر اعظم شہباز شریف کی اماراتی بندرگاہ خوروفکان پر حملے شدید مذمت،فریقین سے تحمل کی اپیل
- 10 hours ago

بنوں: نادرا آفس پر دہشت گردوں کے حملےمیں 2پولیس اہلکار شہید
- 7 hours ago

اسحاق ڈار کا جاپان اور پرتگال کے وزرائے خارجہ سے رابطہ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر امور پر تبادلہ خیال
- 9 hours ago

پیٹرول اور ڈیزل کی وافر مقدار موجود ہے، ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کےخلاف سخت ایکشن ہو گا،وزیر خزانہ
- 6 hours ago

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
- 12 hours ago

توانائی بچت اورکفایت اشعاری اقدمات کے تحت ملک بھر میں بازار رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ
- 6 hours ago

امریکی و اسرائیلی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس چیف شہید،ایران کی تصدیق
- 11 hours ago








.webp&w=3840&q=75)


