Advertisement
پاکستان

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی:اگرفریقین راضی ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، دفتر خارجہ

پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارتکاری کی وکالت کی ہے اور یہی مؤقف اب بھی برقرار ہے،ترجمان

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 months ago پر Mar 24th 2026, 12:46 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی:اگرفریقین راضی ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، دفتر خارجہ

اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر فریقین مذاکرات کیلئے راضی ہوں تو پاکستان میزبانی کرنے کیلئے تیار ہے۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارتکاری کی وکالت کی ہے اور یہی مؤقف اب بھی برقرار ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا،ترجمان نے کہا کہ  پاکستان، ترکیہ اور مصر کی جانب سے سفارتی سطح پر کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ خطے کے اہم ممالک امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں اور مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔

برطانوی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔

دوسری جانب قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کا مطالبہ ہے کہ اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں تاہم اب بھی متعدد اہم معاملات حل طلب ہیں، جن میں سر فہرست یہ مطالبہ شامل ہے کہ امریکا اس جنگ کو ایران کے خلاف جارحیت تسلیم کرے اور ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرے۔

Advertisement