Advertisement

امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایچ ون بی پالیسی غیر قانونی قرار دے دی

امریکی عدالت نے فیصلہ  دیا کہ 100,000 ڈالر کی یہ فیس درحقیقت ایک "ٹیکس" ہے، اور امریکی آئین کے مطابق ایسا ٹیکس صرف کانگریس کی منظوری سے ہی نافذ کیا جا سکتا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 months ago پر Jun 9th 2026, 3:36 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایچ ون بی پالیسی غیر قانونی قرار دے دی

ویب ڈیسک:امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایچ ون بی ویزا پالیسی کو غیر قانونی قرار دے کر رد کردیا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق  امریکا کے وفاقی جج لیو سوروکن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہر غیر ملکی ورکرز کے لیے ایچ ون بی ویزا پر عائد کی گئی ایک لاکھ ڈالر کی بھاری فیس کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ یہ فیس دراصل ایک غیر قانونی ٹیکس کی مانند ہے جسے لگانے کی منظوری امریکی پارلیمنٹ یعنی کانگریس نے کبھی نہیں دی، اس لیے امریکی محکمہ خارجہ اور امیگریشن کے ادارے اس فیس کو نافذ نہیں کر سکتے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایچ ون بی ویزا کی درخواست پر ایک لاکھ ڈالر فیس جمع کرانے کی شرط عائد کی تھی،تاہم کیلی فورنیا سمیت امریکا کی 20 ریاستوں نے ستمبر میں اعلان کردہ ٹرمپ پالیسی چیلنج کی تھی۔ رپورٹس کے مطابق امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ٹرمپ پالیسی کیخلاف عدالتی فیصلے کو ایکٹیوازم قرار دے دیا۔

دوران سماعت امریکی عدالت نے فیصلہ  دیا کہ 100,000 ڈالر کی یہ فیس درحقیقت ایک "ٹیکس" ہے، اور امریکی آئین کے مطابق ایسا ٹیکس صرف کانگریس کی منظوری سے ہی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ صدر کو یکطرفہ طور پر یہ اختیار حاصل نہیں تھا، لہٰذا یہ پالیسی قانون کے خلاف ہے۔

واضح رہے کہ H-1B ویزا امریکی کمپنیوں کو بیرونِ ملک سے ماہر اور ہنرمند افراد، خصوصاً آئی ٹی، انجینئرنگ، سائنس اور صحت کے شعبوں کے پیشہ ور افراد کو ملازمت دینے کی اجازت دیتا ہے۔ اس پروگرام سے بھارتی، پاکستانی اور دیگر ممالک کے ہزاروں پیشہ ور افراد فائدہ اٹھاتے ہیں۔

Advertisement