Advertisement

ایران کا اپنی دفاعی وعسکری صلاحیتیں ایشیائی ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کا اعلان

ایران نے اپنے دفاعی نظام کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا، جس میں ڈرونز اور میزائل حملے شامل تھے، جبکہ فضائی حدود میں امریکی ڈرونز کو بھی نشانہ بنایا گیا،رضا طلائی

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 months ago پر Apr 28th 2026, 4:00 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
ایران کا اپنی دفاعی وعسکری صلاحیتیں ایشیائی ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کا اعلان

بشکیک:ایران نے اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں دیگر ممالک خصوصاً شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کرغزستان کے دارالحکومت میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب کرتے ایرانی نائب وزیر دفاع رضا طلائی نِک نے کہا کہ ایران دیگر ممالک کے ساتھ امریکا کے خلاف جنگ کے تجربات بھی شیئر کرنے کو تیار ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ میں ایران نے اپنے دفاعی نظام کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا، جس میں ڈرونز اور میزائل حملے شامل تھے، جبکہ فضائی حدود میں امریکی ڈرونز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام اور مسلح افواج کی ثابت قدمی نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ امریکا کو اپنی غیر قانونی اور غیر منطقی شرائط ترک کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق عالمی برادری اب امریکا اور اسرائیل کو ریاستی دہشت گردی کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق بشکیک ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کرغزستان، روس، پاکستان اور بیلاروس کے وزرائے دفاع سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں باہمی تعاون اور علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر واسلی نیبینزیا نے ایران کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا مکمل حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے حالات میں ساحلی ریاستیں اپنی سلامتی کے لیے اپنے پانیوں میں جہاز رانی کو محدود کر سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ ایران نے فروری کے آخر سے اپریل کے اوائل تک امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایک شدید تنازع کا سامنا کیا، جو بعد ازاں جنگ بندی پر ختم ہوا، تاہم تنازع کے مستقل حل کے لیے سفارتی کوششیں تاحال تعطل کا شکار ہیں۔

 

Advertisement
Advertisement