ٹیکس نظام کو خودکار، شفاف اور مؤثر بنایا جائے گا، وزیراعظم کی متعلقہ حکام کو ہدایت
۔ وزیراعظم نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے ایک خودکار، جدید اور مؤثر ٹیکس مینجمنٹ نظام کا قیام حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں سنگِ میل ثابت ہوگا

.webp&w=3840&q=75)
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جاری اصلاحات سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس میں ان لینڈ ریونیو کی وصولیوں کو مزید مؤثر، شفاف اور فیس لیس بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے ایک خودکار، جدید اور مؤثر ٹیکس مینجمنٹ نظام کا قیام حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
دوران اجلاس وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ ٹیکس وصولی کے نظام میں انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے نفاذ سے نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹیکس نظام میں شفافیت، انصاف اور عوامی اعتماد کو بھی فروغ ملے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معیشت کی دستاویزی شکل اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے ایف بی آر اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے غیر قانونی سگریٹس کے خلاف مؤثر کارروائیوں پر صوبائی حکومتوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔
اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ انکم ٹیکس وصولی کے مجوزہ آٹومیٹڈ نظام میں جائیدادوں، گاڑیوں اور بینکوں کے ڈیٹا کی مدد سے کم ظاہر کی گئی آمدن اور اثاثوں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت موجود ہوگی۔ بریفنگ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے ٹیکس کے نظام کو خودکار، شفاف اور مؤثر بنایا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے نظام کے تحت نیشنل فیس لیس آڈٹ ونگ، نیشنل اسیسمنٹ ونگ اور فیلڈ آپریشنز ونگ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ انفورسمنٹ اقدامات کے نتیجے میں سگریٹ کے شعبے سے رواں سال قومی خزانے کو 40 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول ہونے کی توقع ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ انکم ٹیکس وصولی کے مجوزہ آٹومیٹڈ نظام کا پائلٹ منصوبہ اسلام آباد سے شروع کیا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
پاکستان اور چین کی دوستی آزمودہ اور وقت کی ہر کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے: چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر
- 4 دن قبل
عبداللہ طاہر قتل کیس: مرکزی مبینہ شوٹر کی شناخت، 6 سہولت کار گرفتار
- 14 گھنٹے قبل
پاکستان علماء کونسل کا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان
- 2 دن قبل

سینئرجج جبری ریٹائر، وجہ سامنے آگئی
- 3 دن قبل
بڑی خوشخبری: اہم عرب ملک کی نئی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان
- 4 دن قبل

لاہور: غازی آباد تھانے میں ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی، 78 اہلکار معطل
- 7 گھنٹے قبل
طلبہ کی موجیں: 4 اگست کو تعلیمی ادارے بند رہیں گے
- 4 دن قبل
آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ میں معلوماتی و تربیتی سیشنز
- 14 گھنٹے قبل
خاتون فٹبالر سمندر میں اچانک ڈوب گئ، کہاں پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی؟
- 13 گھنٹے قبل
ڈرون حملے میں کارگو جہاز غرق
- 3 دن قبل
پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے نئی لگنے والی شرط کیا ہے؟
- 14 گھنٹے قبل
پولیس کا جنون، لڑکی نے خودکشی کیوں کی؟
- 14 گھنٹے قبل


