Advertisement

طالبان رجیم میں ایک سال میں 100 خواتین سمیت تقریبا 1200 افراد کو سرعام کوڑے مارنے کا انکشاف

یہ سزائیں کابل، ہرات، بلخ، قندھار، ننگرہار، خوست، بدخشاں، پکتیا، پکتیکا اور فاریاب سمیت درجنوں صوبوں میں دی گئیں،رپورٹ

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 months ago پر Mar 22nd 2026, 7:01 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
طالبان رجیم میں ایک سال میں 100 خواتین سمیت تقریبا 1200 افراد کو سرعام کوڑے مارنے کا انکشاف

کابل:افغانستان کی طالبان رجیم نے مارچ  2025 سے مارچ 2026 کے دوران کم از کم ایک ہزار  186 افراد کو کوڑے مارے اور قصاص کے تحت 6 لوگوں کو سرعام سزائے موت بھی دی گئی۔ 

تفصیلات کے مطابق جلا وطن افغان صحافیوں کے مرتب کردہ سرکاری بیانات اور اعداد و شمارمیں کہا گیا ہے کہ فغانستان کے بیشتر حصوں میں جسمانی سزاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔

رپورٹ  میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ سزائیں کابل، ہرات، بلخ، قندھار، ننگرہار، خوست، بدخشاں، پکتیا، پکتیکا اور فاریاب سمیت درجنوں صوبوں میں دی گئیں۔ 

طالبان عدالتوں کے بیانات کے مطابق گزشتہ سال کے آخری مہینوں میں جسمانی سزاؤں میں اضافہ ہوا، جن میں تقریباً 100 خواتین کو کوڑے مارے گئے، ان میں سے کئی سزائیں عوامی مقامات پر دی گئیں۔ 

طالبان کی عبوری حکومت کے تحت افغانستان میں ایک سال کے دوران 1186 افراد کو کوڑے مارے گئے،جبکہ شمسی سال 1404 کے دوران 6 افراد کو سرِ عام سزائے موت دی گئی۔

دوسری جانب انسانی حقوق ایکٹیوسٹس کا کہنا ہے کہ جسمانی سزاؤں میں اضافہ منصفانہ قانونی عمل اور بنیادی آزادیوں کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے اور یہ سزائیں معاشرے میں خوف کی فضا پیدا کرتی ہیں۔ 

Advertisement
Advertisement