Advertisement

"فلائنگ سکھ " کاخطاب پانے والے معروف بھارتی ایتھلیٹ ملکھا سنگھ کورونا سے انتقال کرگئے

نیودہلی : بھارت کے لیجنڈری سابق سپرنٹر اور "فلائنگ سکھ " کے نام سے مشہور ملکھا سنگھ 91 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ۔ وہ کورونا کے بعد پیچیدگیوں کاشکار تھے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Jun 20th 2021, 12:41 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

بھارتی میڈیا کے مطابق  معروف  ایتھلیٹ   ملکھا سنگھ کورونا کے مرض میں مبتلا تھے تاہم صحت یابی کے بعد  پیچیدگیوں  کی وجہ سے جانبر نہ ہوسکے ۔وہ  پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ میں زیر علاج تھے ، 91 سالہ بھارتی ایتھلیٹ میں 19مئی کو کورونا ٹیسٹ مثبت ہونے کی تصدیق ہوئی تھی ،  جس کے بعد سے وہ  چندی گڑھ میں اپنی  رہائش گاہ پر قرنطینہ میں تھے،  طبیعیت بگڑنے پر انہیں 24 مئی کو  موہالی  کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا۔ تاہم طبیعیت سنبھلنے پر انہیں 3 جون کو چنڈی گڑھ منتقل  کیا گیا تھا۔

13 جون کو ان کا کورونا ٹیسٹ منفی آگیا تھا لیکن  کورونا سے صحت یابی کے بعد کی پیچیدگیوں کے باعث ان کو جنرل آئی سی یو منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت 18جون  کو بگڑ گئی۔  جمعے کی رات مقامی وقت کے مطابق 11 بج کر 30 منٹ پروہ دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ۔ ان کے اہل خانہ  کی جانب سے  ایک بیان میں  وفات کی تصدیق کی  گئی ہے ۔

ملکھا سنگھ کی اہلیہ  نرمل کور  بھی  پانچ روز قبل  کورونا کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئی تھیں ،  ان کی آخری رسومات اتوار کے روز ہی چنڈی گڑھ میں ادا کی گئی تھیں۔یاد  رہے ملکھا سنگھ کو فلائنگ سنگھ کا خطاب پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ايوب خان نے دیا تھا۔ملکھا  سنگھ نے ایشین گیمز میں چار طلائی تمغے جیت کر ٹریک اینڈ فیلڈ میں اپنا نام روشن کیا۔ انہوں نے 1958 میں کارڈف میں کامن ویلتھ گیمز میں سونے کا تمغہ بھی جیتا تھا۔  1960 کے روم گیمز کے 400 میٹر فائنل میں چوتھی پوزیشن حاصل کی ۔ ملکھا سنگھ نے یہ  دوڑ 45.73 سیکنڈ میں ختم کی، ان کا یہ ریکارڈ 40سال تک قائم رہا۔

Advertisement