Advertisement
پاکستان

خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا،سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

جج کیلئے معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ بے داغ کردار ہے،بدنام شہرت کے حامل جج کو ریٹائر نہیں بلکہ برطرف کیا جا سکتا ہے،فیصلہ

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 months ago پر Jun 19th 2026, 7:09 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا،سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے میلسی میں تعینات ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کیس میں اہم فیصلہ جاری کر دیا،سپریم کورٹ نے سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے جج کی برطرفی بحال کر دی۔

ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی برطرفی کی سزا بحال کی جاتی ہے،عدالتی افسر کی بحالی اور منفی ریمارکس ختم کرنے کی دونوں درخواستیں مسترد کردی گئیں،نو صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا۔جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شفیع صدیقی تین رکنی بینچ کا حصہ تھے۔

عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کی اپیل منظور کرتے ہوئے برطرف جج کی سزا بحال رکھی اورافضل زاہد کی ملازمت پر بحالی کی درخواست مستردکردی،سپریم کورٹ نے سروس ٹریبونل کا جبری ریٹائرمنٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

دوران سماعت  سپریم کورٹ نے کہاکہ جج کیلئے اچھی شہرت انصاف کی بنیادی شرط ہے،خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا، عوام کا اعتماد کھو دینے والا جج عدلیہ کی نمائندگی نہیں کر سکتا، جج کی ساکھ پر سوال اٹھ جائے تو عدلیہ کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جج کیلئے معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ بے داغ کردار ہے،بدنام شہرت کے حامل جج کو ریٹائر نہیں بلکہ برطرف کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ جج کی شہرت مشکوک ہو تو عوام کا انصاف پر اعتماد مجروح ہوتا ہے، عدلیہ کو صرف انصاف نہیں بلکہ انصاف کا اعتماد بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے، جج کی خراب شہرت پورے عدالتی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے، بدعنوانی ثابت نہ ہونے کے باوجود خراب شہرت سنگین معاملہ ہے، خراب شہرت والے جج کی برطرفی قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتی منصب پر رہنے کیلئے بے داغ ساکھ ناگزیر ہے، جج کی ساکھ متاثر ہو جائے تو اس کی عدالتی حیثیت برقرار نہیں رہ سکتی، خراب شہرت رکھنے والے جج کو مراعات کے ساتھ ریٹائر نہیں کیا جا سکتا، عوامی اعتماد عدلیہ کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔

Advertisement
Advertisement