Advertisement
پاکستان

کامیاب سیز فائر:پاکستان کو بااعتماد ثالث کے طور پر خطے اور پوری دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے،خواجہ آصف

جنگ بندی میں کامیابی کے بعد پاکستان سیاسی طور پر بھی ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، اب استحکام ہوگا اور ہم معیشت پر بھی توجہ مرکوز کرسکیں گے،خواجہ آصف

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 months ago پر Apr 8th 2026, 6:16 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
کامیاب سیز فائر:پاکستان کو بااعتماد ثالث کے طور پر خطے اور پوری دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے،خواجہ آصف

اسلام آباد: ایران اور امریکہ کے مابین کئی ہفتوں سے جاری جنگ بندی کے خاتمے میں مذاکرات پر رضا مندی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں اور خطے میں پاکستان کو بااعتماد ثالث کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے باہرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ امریکا ایران جنگ بندی پر کہا ہےکہ پاکستان دنیا کی بہت بڑی جنگ رکوانے میں کامیاب ہوا ہے، مودی فارغ  ہوگیا، اس کے پلےکچھ نہیں رہا، بھارتی میڈیا اب  تڑپتا  رہےگا۔

گفتگو کے دوران وفاقی وزیر دفاع ؒکا کہناتھا کہ سب کو بہت بہت مبارک ہو، اللہ نے پاکستان کو دنیا بھر میں عزت دی،پاکستان کو بااعتماد ثالث کے طور پر خطے اور  پوری دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے، عرب بھائیوں،عالمی طاقت امریکا سمیت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں۔

گفتگو میں انہوںنےمزید کہا کہ کل شام تک جنگ کےگہرے بادل چھائے  ہوئے تھے، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم  شہبازشریف کی جنگ بندی کے حوالے سےکوششیں رنگ لے آئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی میں کامیابی کے بعد پاکستان سیاسی طور پر بھی ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، اب استحکام بھی ہوگا  اور  ہم معیشت  پر بھی توجہ مرکوز کرسکیں گے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سول اور عسکری قیادت پر مشتمل ہائبرڈ ماڈل نے دو تین سال میں بے پناہ کامیابیاں سمیٹیں، ثابت ہوتا ہے طاقت کے مراکز مل کرکام کریں تو پاکستان عالمی سطح پرکتنی کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک سال کے اندرپاکستان پر اللہ نے بے پناہ فضل و کرم کیا اور ہم نے دشمن کو پانچ گنا زیادہ نقصان پہنچایا جبکہ ایک بڑی جنگ کو روکنے میں بھی کامیاب رہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اللہ کی مہربانی سے توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ داخلی صورتحال، معیشت اور امن میں کامیابی لازمی ہے،افغانستان کو پاکستان کی چالیس سال کی میزبانی کا حیا کرنا چاہیے،ہم نے امن مذاکرات کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔

 

Advertisement
Advertisement