ژالہ باری نے نہ صرف فصلوں بلکہ زرعی انفراسٹرکچر، جیسے سولر ٹیوب ویلز، کو بھی نقصان پہنچایا ہے، جس سے کسانوں کو دوہرا نقصان برداشت کرنا پڑا،ڈاکٹر شفیق احمد


پاکستان کی معیشت اور معاشرت کا ایک بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق ملک میں تقریباً 42 فیصد لیبر فورس براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے، جبکہ زراعت کا حصہ قومی GDP میں تقریباً 18.9 فیصد ہے۔ زراعت نہ صرف غذائی ضروریات پوری کرتی ہے بلکہ لاکھوں افراد کے روزگار اور معاشی استحکام کا ذریعہ بھی ہے۔
تاہم حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) نے اس اہم شعبے کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جس کے اثرات براہِ راست کسانوں کی پیداوار اور آمدنی پر پڑ رہے ہیں۔
2025 کا سیلاب اور چاول کی فصلوں کا نقصان
گزشتہ سال آنے والے تباہ کن سیلاب نے پاکستان کے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا۔ خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے زرعی علاقوں میں لاکھوں ایکڑ پر مشتمل چاول کی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ کھیتوں میں کھڑا پانی کسانوں کی سال بھر کی محنت بہا لے گیا، جس سے نہ صرف غذائی تحفظ کو خطرہ لاحق ہوا بلکہ ہزاروں کسان معاشی بحران کا شکار ہو گئے۔
یہ صورتحال اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں بلکہ یہ معاشی اور سماجی استحکام کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
حالیہ بے موسمی بارشیں اور گندم کی فصلوں پر اثرات
رواں سال گندم کی تیار فصلوں پر بے موسمی بارشوں اور بعض علاقوں میں ژالہ باری نے شدید اثر ڈالا ہے۔ عین کٹائی کے وقت ہونے والی بارشوں نے فصلوں کو نقصان پہنچایا، جس سے کسانوں کی آمدنی پر براہِ راست اثر پڑا۔
اس حوالے سے ماہر ماحولیات اور سائنس کمیونیکیشن اسپیشلسٹ ڈاکٹر شفیق احمد کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشیں اور ژالہ باری غیر معمولی شدت کی حامل تھیں اور روایتی موسمی پیٹرن کے برعکس تھیں۔ ان کے بقول “ملتان، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے کئی علاقوں میں گندم، آم اور دیگر فصلیں شدید متاثر ہوئیں، جبکہ بعض مقامات پر فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔”
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور کسانوں کو ہر سال نئے خطرات کا سامنا ہے۔
پیداوار میں کمی اور کسانوں کی معاشی مشکلات
موسمیاتی تبدیلی نے نہ صرف فصلوں کی پیداوار بلکہ کسانوں کی آمدنی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ عین فصلوں کی کٹائی کے وقت ہونے والی بارشوں نے تیار فصلوں کو تباہ کر دیا، جس سے کسانوں کی سال بھر کی محنت ضائع ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر شفیق احمد کے مطابق “کسان اپنی تمام سرمایہ کاری فصل کی تیاری پر خرچ کر چکے ہوتے ہیں اور کٹائی کے وقت آمدنی کی امید رکھتے ہیں، لیکن بے موسمی بارشیں انہیں اس آمدنی سے محروم کر دیتی ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ژالہ باری نے نہ صرف فصلوں بلکہ زرعی انفراسٹرکچر، جیسے سولر ٹیوب ویلز، کو بھی نقصان پہنچایا ہے، جس سے کسانوں کو دوہرا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
پانی کی قلت اور بڑھتا ہوا دباؤ
پاکستان پہلے ہی پانی کے شدید دباؤ کا شکار ملک ہے، اور موسمیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، بارش کے غیر متوقع پیٹرن، اور گلیشیئرز کے پگھلنے نے پانی کے ذخائر کو متاثر کیا ہے۔
اس کے نتیجے میں کسان روایتی آبپاشی کے طریقوں پر انحصار جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے فصلوں کی پیداوار اور معیار دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔
حل اور ممکنہ حکمت عملیاں
ڈاکٹر شفیق کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ “اگر مؤثر Early Warning System موجود ہو تو کسان بروقت اقدامات کر کے اپنے نقصانات کو کم کر سکتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں درج ذیل اقدامات کو فروغ دینا ضروری ہے:
جدید storage systems تاکہ فصلوں کو بارشوں سے محفوظ رکھا جا سکے
ٹنل فارمنگ (Tunnel farming) اور شیڈیڈ فارمنگ (shaded farming) جیسے جدید زرعی طریقے
Crop diversification یعنی ایک سے زیادہ فصلیں اگانے کی حوصلہ افزائی۔
متبادل فصلوں (جیسے زیتون اور ایواکاڈو) کی کاشت
کھیتوں کے گرد درخت لگانا تاکہ طوفانی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
حکومت ہا این جی اوز کی جانب سے کسانوں کو آسان قرضوں اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی۔
ڈاکٹر شفیق کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف کسانوں کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھا سکتے ہیں بلکہ زرعی نظام کو موسمیاتی خطرات کے مقابلے کے لیے مضبوط بنا سکتے ہیں۔
نتیجہ
موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے۔ پچھلے سال کے سیلاب اور حالیہ بے موسمی بارشوں نے واضح کر دیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات مزید شدید ہو سکتے ہیں۔
تاہم، مؤثر پالیسی سازی، جدید زرعی طریقوں اور بروقت معلومات کی فراہمی کے ذریعے اس بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور کسانوں کو مستقبل کے خطرات سے بہتر طور پر محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
تحریرو تحقیق: احسان اللہ اسحاق
نوٹ: یہ فیچر دستیاب معلومات، تحقیق اور ماہرین کی رائے کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد دھماکے میں ملوث تمام سات خوارج ہلاک
- 3 days ago

احسن اقبال نے انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح کردیا
- 3 days ago
کے پی اور پاک افغان سرحدی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 37 دہشتگرد جہنم واصل
- 21 hours ago

ساڑھے سترہ لاکھ سے زائد افراد فیول ریلیف سکیم میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، شزہ فاطمہ
- 3 days ago

پیٹرول ریلیف اسکیم: 5 لیٹر سے کم پیٹرول ڈلوانے والوں کے لیے بھی رعایت کا اعلان
- 3 days ago

اسٹیج کے سینئر اداکار آصف اقبال انتقال کر گئے
- 3 days ago

پی ٹی آئی مارچ: آئی جی خیبر پختونخوا نے پولیس افسران کو ریلی یا جلوس میں مدد فراہم نہ کرنیکی ہدایت کر دی
- 3 days ago
پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کیلئے تیارہو گئی، راجا ناصر عباس
- 11 hours ago

لاہور ہائیکورٹ کی این سی سی آئی اےکو محمد رضوان کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت
- 15 hours ago

علیمہ خان کے بعد عمران خان کی بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی نظربند
- 21 hours ago

ملک میں سونے کی قیمت مزید کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- a day ago

اسٹیج اور ٹی وی کے سینئر فنکار آصف اقبال منوں مٹی تلے جا سوئے
- 20 hours ago






